لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 426
426 رشتہ و ناطہ ربوہ میں بحیثیت انچارج کام کر رہے ہیں اور محترم مولوی غلام احمد صاحب بد و ملہوی نے مبلغ کے طور پر کام کیا۔جامعہ احمدیہ میں پروفیسر بھی رہے اور آج کل تحریک جدید کے ماتحت گیمبیا (مغربی افریقہ ) میں ایک کامیاب مبلغ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔اللهم متعنا بطول حياتهما۔۱۹۴۵ء میں خاکسار کا تقرر لاہور میں ہوا۔پہلی مرتبہ دارالتبلیغ کا قیام عمل میں لایا گیا۔انداز آتین چار سال کام کرنے کی توفیق ملی۔اسی دوران ۱۹۴۷ء ہندوستان کی تقسیم عمل میں لائی گئی اور مسلمان قوم کے لئے پاکستان کا وجود نقشہ عالم پر ابھر آیا۔۱۹۴۸ء کے آخر میں خاکسار کا تبادلہ ضلع سرگودھا میں ہوا اور خاکسار کی جگہ سرگودھا کے مبلغ محترم مولا نا عبد الغفور صاحب کا تقرر لاہور میں کیا گیا۔آپ نے بھی پانچ چھ سال تک خوب محنت اور تندہی کے ساتھ یہاں جماعت کی تعلیم و تربیت اور تبلیغ کا کام کیا۔آپ کے زمانہ قیام کے دوران میں ۱۹۵۳ء کا ہنگامہ خیز سانحہ پیش آیا۔مغربی پاکستان میں ہماری جماعت کے خلاف ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہوا۔مسلم فرقوں کے بیشتر مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے بالا تفاق اس قلیل التعداد اور معصوم جماعت کو محض اس جرم کی بناء پر صفحہ ہستی سے مٹانے کا عزم بالجزم کر لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول لے کے احکام کے ماتحت ایک مامور من اللہ کو کیوں منجانب اللہ تسلیم کرتی ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جب کہ جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا گھر سے نکلنا دشوار ہوگیا تھا اور جماعت کے امام حضرت امیر المومنین خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنی پیاری جماعت کو یہ بشارت بھی دے رکھی تھی کہ میرا تجربہ ہے کہ میرے خدا نے کبھی بھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑا اور وہ اب بھی انشاء اللہ میری امداد سے قطعا منہ نہیں موڑے گا۔تم دعاؤں میں لگے رہو اور اپنے رب کی بارگاہ میں سر بسجو د ہو کر اس کی نصرت طلب کرنے سے کبھی غافل نہ ہو۔یقین جانو کہ وہ تمہاری مدد کے لئے دوڑتا ہوا آئے گا۔چنانچہ یہی ہوا۔عین اس روز جب کہ معاندین سلسلہ اپنے مذموم پروگرام پر عمل کرنا چاہتے تھے۔خدائی نصرت مارشل لاء کے رنگ میں آئی اور جماعت کی حفاظت کا پورا پورا انتظام کر دیا گیا۔اس ہنگامہ میں گولا ہور میں جماعت کے چند آدمی شہید کر دیئے گئے مگر معاندین کا جانی نقصان اس سے کہیں بڑھ کر ہوا۔حضرت مولوی عبد الغفور صاحب رضی اللہ عنہ نے اس موقعہ پر مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ کی حفاظت کا فرض نہایت ہی خوش اسلوبی سے ادا کیا۔فجزاه الله احسن الجزاء۔