لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 427 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 427

427 ۱۹۵۴ء میں خاکسار کا تبادلہ پھر لاہور میں ہو گیا۔اور اس وقت سے لیکر اب تک جو ۱۹۶۶ء گذر رہا ہے اور آج مارچ کی ۱۹۔تاریخ ہے یہاں کام کر رہا ہوں۔اس عرصہ میں مندرجہ ذیل مربی صاحبان یہاں ٹریننگ حاصل کرنے کے لئے بھی تشریف لائے۔ا۔مکرم شمس الحق صاحب ۲۔مکرم مرزا محمد سلیم صاحب ۳۔مکرم مولوی مبارک احمد جمیل۔اوّل الذکر کو کچھ ٹرینگ کے بعد دفتر افتاء میں لگا دیا گیا جہاں وہ آج کل کام کر رہے ہیں۔ثانی الذکر کو ٹریننگ کے بعد ضلع لاہور میں متعین کر دیا گیا اور تیسرے مکرم مولوی مبارک احمد صاحب جمیل کو ٹرینگ حاصل کرنے کے بعد شہر لاہور میں متعین کیا گیا۔چنانچہ وہ اب تک بفضلہ تعالیٰ مستعدی کے ساتھ خدمات سلسلہ بجا لا رہے ہیں۔ان مبلغین سے قبل محترم مولوی محمد اشرف صاحب ناصرا اور محترم راجہ خورشید احمد صاحب نے بھی علی الترتیب شہراور ضلع میں تھوڑا تھوڑا عرصہ کام کیا ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی خلافت کے زمانہ کا ذکر ہورہا تھا۔اس ضمن میں حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کے لاہور میں بحیثیت مبلغ تقریر کا ذکر آنے پر ساتھ ہی اختصاراً ان تمام مبلغین کا ذکر کر دیا گیا ہے جو آپ کی زندگی میں یا آپ کے بعد لاہور میں متعین ہوئے۔اس مختصر تذکرہ کے بعد مناسب ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے زمانہ کے بعد ضروری واقعات کا ذکر کیا جائے جن کا تعلق لا ہور کے ساتھ ہے۔حضرت خلیفہ اول کا ملتان تشریف لے جاتے ہوئے لاہور میں قیام ۲۴۔جولائی ۱۹۱۰ ء کو حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کو ایک طبی شہادت دینے کے لئے ملتان جانا پڑا۔رات لاہور میں قیام فرمایا۔۲۵۔جولائی کو لاہور سے ملتان تشریف لے گئے اور شہادت سے فارغ ہوکر ۲۸۔جولائی کی صبح لاہور واپس پہنچے۔۲۹۔تاریخ کو لاہور میں جمعہ کی نماز پڑھائی اور ۳۱۔کو احباب جماعت کی درخواست پر صبح کے وقت احمد یہ بلڈ نگس میں اسلام اور دیگر مذاہب“ کے عنوان پر ایک پبلک تقریر فرمائی۔شام کو واپس قادیان تشریف لے گئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی لاہور میں تشریف آوری ۲۲۔اکتوبر ۱۹۱۱ء کو محترم خواجہ جمال الدین صاحب انسپکٹر مدارس ریاست جموں کے فرزند