لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 425 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 425

425 اسی مجلس میں قادیان جانے والے ایک دوست مل گئے ان کے ہاتھ خاکسار نے اپنی طرف سے حضرت مولوی صاحب کی حالت پر مشتمل جناب ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ کی خدمت میں ایک رقعہ لکھا اور یہ بھی لکھا کہ جونہی میرا یہ رقعہ جناب کی خدمت میں پہنچے حضرت مولوی صاحب کو بذریعہ تار بلا لیا جائے۔چانچہ دوسرے روز صبح آٹھ بجے حضرت مولوی صاحب قادیان تشریف لے گئے مگر وہاں بھی کافی عرصہ بخار رہا جس کا اثر آپ کے اعصاب پر بھی پڑا اور قوت شنوائی پر بھی۔سلسلہ کے ساتھ فدائیت اور توکل علی اللہ کے لا تعداد واقعات کے ساتھ حضرت مولوی صاحب کی سیرت مرقع ہے۔اس نوع کے واقعات سے پتہ لگتا ہے کہ ہمارے بزرگ خدمت دین کو کس طرح ایک نعمت عظمی سمجھتے تھے۔استاذی المکرم حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب بھی فرمایا کرتے تھے کہ میاں ! میں نے کبھی چھٹی نہیں لی۔اور حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی رضی اللہ عنہ کا تو یہ عالم تھا کہ گھر سے سبزی لینے کے لئے بازار تشریف لے گئے ہیں۔رستہ میں دفتر کا کارکن دفتر کا کوئی آرڈر لے کر حاضر خدمت ہو گیا۔لفافہ کھولنے پر معلوم ہوا کہ کسی جگہ جلسہ یا تبلیغ کے لئے جانے کا حکم ہے۔اسی وقت سبزی کے لئے رومال اور پیسے کسی دوست کے حوالے کر دیئے اور فرمایا کہ ہمارے گھر میں سبزی پہنچا دینا اور کہہ دینا کہ غلام رسول کو فلاں جگہ جانے کا حکم ہو گیا ہے اس لئے وہ ریلوے اسٹیشن کی طرف جا رہا ہے۔ریلوے اسٹیشن جاتے ہوئے آپ یہ بھی نہیں سوچتے تھے کہ گاڑی آنے میں کتنا وقت باقی ہے؟ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جتنا وقت ریلوے اسٹیشن پر گاڑی کے انتظار میں کٹے گا اس کا ثواب بھی کیوں ضائع کیا جائے۔☆ سبحان اللہ خدمت دین کرنے والے نوجوانوں کے لئے کیا عجیب نمونہ تھے ہمارے بزرگ ! آپ کے علاوہ تھوڑے تھوڑے عرصہ کے لئے محترم مولوی ظہور حسین صاحب مجاہد بخارا اور محترم مولوی غلام احمد صاحب بد و ملہوی نے بھی لاہور میں قابل قدر کام کیا ہے۔محترم مولوی ظہور حسین صاحب تو وہ بزرگ ہیں جنہیں نے اعلائے کلمہ حق کی خاطر بخارا میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور بعد ازاں ہندوستان کے طول و عرض میں تبلیغ حق کا فریضہ ادا کرتے رہے اور آج کل شعبہ محترم ڈاکٹر عبید اللہ خاں صاحب کا بیان ہے کہ حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری بھی کچھ عرصہ لا ہور میں بطور مبلغ متعین رہے ہیں اور مشرقی افریقہ جانے سے قبل محترم شیخ مبارک احمد صاحب نے بھی چند ماہ یہاں کام کیا ہے۔