لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 375
375 مدرسہ احمدیہ میں ایک سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد خاکسار اپنے گاؤں واپس چلا گیا۔اور پھر 1917ء میں قادیان جا کر نویں جماعت میں داخل ہوا۔نویں پاس کرنے کے بعد خاکسار لاہور واپس آ گیا۔اور ملازمت اختیار کر لی۔احمدیت سے پہلے میرے والد پیری مریدی کا کام بھی کرتے تھے مگر احمدی ہونے کے بعد انہوں نے یہ کام چھوڑ دیا اور اپنے گاؤں میں زراعت کا کام شروع کر دیا اور تبلیغ میں مصروف ہو گئے۔چنانچہ ان کی تبلیغ سے بابو عبد الرحمن صاحب انبالوی اور ان کے عزیزوں نے احمدیت قبول کی۔ابھی آپ کو زراعت کا کام کرتے چھ ماہ ہی گذرے تھے۔کہ ان کے خالو خان بہا در میاں محمد سزاوار رئیس لاہور نے انہیں لاہور میں بلا لیا۔اور اپنی دو ہزار ایکٹر اراضی کا بندوبست کرنے کو کہا جو موضع ڈیال اور موضع اٹا نوالی میں تھی۔تمہیں سال کا عرصہ آپ نے موضع نواں پنڈ مشمولہ ڈیال میں رہائش اختیار کر کے اس اراضی کا انتظام کیا اور نواں پنڈ میں جماعت بھی قائم کی۔چنانچہ ان کی تبلیغ سے مولوی عبدالحکیم صاحب اور مولوی محمد حسین صاحب وغیرہ نے بیعت کی۔میں ۱۹۱۷ ء میں ملٹری اکاؤنٹس میں اسٹمنٹ اکاؤنٹنٹ کے طور پر ملازم ہو گیا۔اور نو سال یہ ملازمت قائم رہی۔۱۹۲۶ ء میں رخصت لے کر فتنہ ارتداد کے دنوں میں تین ماہ کے لئے اپنے خرچ پر اجمیر بیا در آگرہ اور ایٹہ میں تبلیغ کرتا رہا۔چوہدری نبی حسن خاں موضع را ؤ پٹی متصل ضلع ایٹہ کو بیعت کروانے کے لئے قادیان لے گیا۔وہاں میرے ذریعہ سے بابونورمحمد صاحب مینیجر کاٹن مل بیا در نے بھی بیعت کی۔۱۹۲۶ء کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک بیٹے کی بشارت دی۔چنانچہ جب میں اس جہاد سے واپس آیا۔تو مجھے اللہ تعالیٰ نے پہلا فرزند ناصر علی عطا فر مایا۔اس دوران میں ملٹری والوں نے تخفیف میں رکھ کر مجھے فارغ کر دیا۔چنانچہ ایک سال میں نے اپنے گاؤں میں زراعت کا کام کیا۔اس کے بعد مجھے کو آپریٹو ڈیپارٹمنٹ میں سب انسپکٹر کی جگہ مل گئی۔۱۹۳۵ء میں میں نے امیر علاقہ مکیریاں کے طور پر اس علاقہ میں تبلیغ کی نگرانی کی۔۱۹۴۶ء سے میں مستقل طور پر حلقہ پرانی انار کلی لاہور میں بحیثیت پریذیڈنٹ حلقہ کام کر رہا ہوں۔۱۹۵۳ء کے فساد میں میر امکان جلانے کی کوششیں کی گئیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بال بال بچالیا۔1941ء میں اللہ تعالیٰ نے مجھے چندہ تحریک اور وقف جدید کو بڑھا کر دس گنا ادا کرنے کی توفیق عطا