لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 374
374 روشناس کرایا۔اسلام کے متعلق آپ کی بیش قیمت تصانیف قبولیت کی سند حاصل کر چکی ہیں۔جماعت احمد یہ میں آپ کی مالی قربانیاں ضرب المثل کے طور پر مشہور ہیں۔اسلام اور احمدیت کے متعلق آپ کی قانونی خدمات سے ایک زمانہ آگاہ ہے۔باوجود اتنی خوبیوں اور قابلیتوں کے اطاعت امام کے سلسلہ میں آپ کا وجود ایک نمونہ ہے۔مختصر یہ کہ اس زمانہ میں احمدی اور غیر احمدی تعلیم یافتہ نوجوان اور بوڑھوں کے لئے آپ کی زندگی میں بے شمار قیمتی اسباق موجود ہیں۔کاش کہ کوئی فائدہ اٹھائے۔اللهم متعنا بطول حياته اولا د امته الحی صاحبہ محترم میاں اکبر علی صاحب ولادت: ۱۸۹۵ء بیعت : پیدائی احمدی محترم میاں اکبر علی صاحب ابن مولوی محمد علی صاحب سکنہ موضع بہا در ضلع گورداسپور نے بیان فرمایا کہ میرے والد مولوی محمد علی صاحب نے حضرت چوہدری رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر اور حضرت منشی عبد العزیز صاحب او جلوی کے ذریعہ ۱۸۹۳ء میں قادیان جا کر بیعت کی۔میری پیدائش ۱۸۹۵ء کی ہے۔اس لحاظ سے میں پیدائشی احمدی ہوں۔جن دنوں کرم دین بھین والے مقدمات کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام گورداسپور تشریف لے جایا کرتے تھے۔میں بھی اپنے والد صاحب کے ساتھ گورداسپور جایا کرتا تھا۔19ء میں میرے والد صاحب نے مجھے قادیان لیجا کر مدرسہ احمد یہ رکاء میں داخل کروا دیا۔حضرت خلیفہ المسیح اول کے فرزند میاں عبدالحی صاحب میرے کلاس فیلو تھے۔اس زمانہ میں جب حضرت صاحب سیر کے لئے باہر تشریف لے جاتے تھے تو ہمیں متعدد بار حضور کی زیارت اور مصافحہ کا شرف حاصل ہوتا تھا اور کئی دفعہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک خادمہ کے ذریعہ سے حضور کا بچا ہوا کھانا بطور تبرک منگوالیا کرتے تھے۔جب حضور آخری جلسہ سالانہ کے ایام میں سیر کے لئے باہر تشریف لے گئے تو میرے والد صاحب اور میرے چچا میاں سلطان احمد صاحب اور میرے پھوپھا حکیم رحمت اللہ صاحب اور خاکسار بھی حضور کے ساتھ تھے۔