لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 365 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 365

365 وو جسے لاہور کی جماعت کو خاص توجہ کے ساتھ بھرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔” جب میں ملک صاحب کا جنازہ پڑھنے آیا تو مرحوم کے اوصاف حمیدہ کو یا دکر کے میرے دل میں اچانک یہ خیال پیدا ہوا کہ علم اور بصیرت رکھنے والے مومن بھی دراصل دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جن کے ایمان کا مرکزی نقطہ ان کے دماغ یعنی مرکز عقل میں ہوتا ہے اور دوسرے وہ جن کے ایمان کا مرکزی نقطہ ان کے دل یعنی مرکز جذبات میں ہوتا ہے۔ان میں سے قسم اول کے مومنوں کی توجہ زیادہ تر دلائل اور براہین کی طرف رہتی ہے اور ان کے خیالات کا محور زیادہ تر عقل کے ارد گرد چکر لگاتا ہے۔لیکن دوسری قسم کے مومنوں کی توجہ زیادہ تر اخلاص اور جذبات میں مرکوز ہوتی ہے اور ان کے خیالات کا محور محبت پر قائم ہوتا ہے اور میں نے شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت لاہور سے کہا کہ میرے خیال میں ملک صاحب مرحوم دوسری قسم کے مخلصین میں شامل تھے جن کے ایمان کے درخت کی جڑیں دماغ کی نسبت دل میں زیادہ جاگزیں ہوتی ہیں اور علم اور بصیرت رکھتے ہوئے بھی ان کی طبیعت میں محبت اور جذبات کا غلبہ رہتا ہے۔” ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں بلند مقام پر جگہ دے اور ان کے بچوں اور دیگر پسماندگان کا حافظ و ناصر ہو۔ملک صاحب مرحوم کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہوئی کہ ایک ہی وقت میں ان کے دونوں جوان بچے خدمت دین کیلئے سمندر پار گئے ہوئے ہیں اور حقیقتاً یہ ایک بڑی بھاری سعادت ہے بلکہ حق یہ ہے کہ ایں سعادت بزور بازو نیست تا بخشد خدائے بخشنده خاکسار مرزا بشیر احمد رتن باغ لاہور ۱۹۴۸ء -۱۲-۲۱ اولاد: ملک عطاء اللہ۔ملک عطاء الرحمن سابق مبلغ فرانس۔ملک احسان اللہ مبلغ مغربی افریقہ۔ملک عبدالمنان مرحوم۔صفیہ۔رشیدہ وغیرہ چار پانچ لڑکیاں۔