لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 366
366 محترم ملک حکیم دین محمد صاحب ولادت : ۱۸۸۸ء بیعت : ۱۹۰۲ء محترم جناب ڈاکٹر عبیداللہ خاں صاحب نے بیان فرمایا کہ محترم حکیم دین محمد صاحب کے والد بزرگوار کا نام شیخ برکت علی صاحب تھا۔راہوں ضلع جالندھر کے باشندہ تھے اور صحابی تھے۔محترم حکیم صاحب نے قادیان ہی میں تعلیم پائی۔دسویں جماعت کا امتحان پاس کر کے پوسٹ ماسٹر جنرل لاہور کے دفتر میں ملازمت شروع کر دی۔۱۹۱۳ ء کے قریب تبدیل ہو کر دفتر ملٹری اکاؤنٹس میں چلے گئے۔دوسری جنگ میں جاپانیوں کی قید میں رہے۔قریب تھا سرقتل کئے جاتے مگر اللہ تعالی نے انہیں بچا لیا۔اب پنشن پر ربوہ میں مقیم ہیں۔آپ نے بچپن میں حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ سے طب پڑھی۔پھر حضرت حکیم احمد دین صاحب شاہدرہ والوں سے بھی پڑھتے رہے۔ذاتی طور پر ہو میو پیتھی سے بھی دلچپسی رکھتے ہیں۔آپ محترم ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے مؤلف اصحاب احمد کے تایا خالو اور خسر ہیں۔آپ نے بیعت بچپن ہی میں کر لی تھی۔عمر اس وقت ۷۷ - ۷۸ سال کے قریب ہو گی۔صحت خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھی ہے۔اولا د امتہ اللہ۔نصرت نعمت۔حکمت - فضل الرب مرحوم۔بشری۔اسمعیل احمد۔ولادت: محترم شیخ شمس الدین صاحب بیعت : حواء وفات : ۱۵۔فروری ۱۹۴۱ء محترم شیخ شمس الدین صاحب چنیوٹ ضلع جھنگ کے مشہور وہرہ خاندان کے چشم و چراغ تھے۔والد ماجد کا نام شیخ حاجی عمر حیات صاحب تھا۔قبول احمدیت کی سعادت اس طرح نصیب ہوئی کہ آپ کے خسر حضرت شیخ عطا محمد صاحب وہرہ چنیوٹ والے ۳۱۳ صحابہ میں سے تھے۔جب بھی موقع ملتا وہ آپ کو تبلیغ کرتے۔آپ کا کاروبار چونکہ لاہور میں تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی لا ہور تشریف لایا کرتے تھے۔اس لئے جب بھی حضور تشریف لاتے آپ حضور کی زیارت کے لئے حاضر ہو جاتے۔