لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 358 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 358

358 مالیر کوٹلہ سے انگریزی مڈل پاس کیا۔اغلبا ۱۸۹۸ء کے وسط میں جب کہ آپ مزید تعلیم لدھیانہ میں حاصل کر رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تقریر لدھیانہ میں ہوئی جسے آپ نے سنا اور حضرت مسیح موعود کی زیارت کا پہلی دفعہ موقعہ ملا۔آپ کے ماموں زاد بھائی ڈاکٹر غلام دستگیر صاحب ۱۸۹۸ء کے قریب آپ کے خاندان میں سب سے پہلے احمدی ہوئے۔جن کی تبلیغ کا آپ پر بھی اثر ہوا۔۱۹۰۱ء میں آپ کی شادی ماہل پور ضلع ہوشیار پور میں ایک معزز ہاشمی خاندان میں ہو گئی۔آپ کی بیوی برکت النساء بیگم کے بڑے بھائی قاضی شاہ دین صاحب جو نمبر دار اور امام مسجد قصبہ ماہلپور تھے۔۱۹۰۲ء میں احمدی ہو گئے۔انہوں نے آپ کو حضرت صاحب کی کتب فتح اسلام اور ازالہ اوہام پڑھنے کو دیں۔ان کے پڑھنے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت آپ پر واضح ہو گئی۔انہی دنوں آپ نے اپنا مکان را ہوں میں بنوایا۔وہاں کے حضرت حاجی رحمت اللہ صاحب مرحوم نے جو احمدی ہو چکے تھے آپ سے پوچھا کہ احمدیت کے متعلق اب آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے آپ نے کہا کہ اب تو کوئی اعتراض باقی نہیں رہا تو حاجی صاحب نے ماہ ستمبر ۱۹۰۵ء میں آپ کو ایک کارڈ دیا کہ جب کوئی اعتراض باقی نہیں تو بیعت کا خط لکھ دیں۔چنانچہ آپ نے وہ خط قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور لکھ دیا تو قادیان سے جواب آیا کہ تمہاری بیعت منظور ہے۔نمازوں میں استقلال پیدا کرو۔درود شریف اور استغفار میں لگے رہو اور تہجد پڑھنے کا بھی شغل رکھو۔آپ تھوڑے عرصہ کے بعد اپنی ملازمت کے سلسلہ میں لا ہور متعین ہوئے اور احمد یہ بلڈنگس کی مسجد کے پاس ایک مکان کرایہ پر لے کر دو سال تک مقیم رہے۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی ان دنوں احمد یہ بلڈنگس میں مغرب سے لے کر عشاء تک درس قرآن مجید دیا کرتے تھے۔جس میں آپ باقاعدگی سے شامل ہوتے رہے۔اس طرح آپ کا علم احمدیت کے متعلق بڑھتا گیا۔بابا ہدایت اللہ صاحب سے جنہوں نے پنجابی شعروں میں احمدیت کی سہ حرفی بہت عمدہ پیرایہ میں لکھی تھی۔انہی دنوں ملاقات ہوتی رہی۔ان کی سہ حرفی کے بہت سے شعر آپ کو زبانی یاد تھے جو آپ اکثر پڑھتے رہتے تھے۔مولوی دلپذیر صاحب کے شعر بھی آپ کو پسند تھے۔ایک دن آپ نے حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی سے عرض کی کہ میرے ہاں چار