لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 359 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 359

359 لڑکیاں ہیں۔اور لڑ کا کوئی نہیں تو مولوی صاحب نے دعا کی ترکیب بتلائی اور ارشاد فرمایا کہ لڑکا ہونے پر اس کا نام محمد رکھنا۔آپ نے ایسا کرنے کا وعدہ کیا۔چنانچہ بفضل خدا لڑکا پیدا ہوا۔جس کا نام مولوی صاحب کے ارشاد کے مطابق ”محمد“ رکھا۔ضلع گجرات میں جہاں کے حضرت مولوی صاحب باشندے تھے۔اکثر لوگ صرف محمد یا احمد نام رکھ لیتے ہیں۔مگر ضلع جالندھرا ورلدھیانہ میں صرف محمد نام رکھنا۔اس نام کے تقدس کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔چنانچہ سید محمد حسین شاہ صاحب نے حضرت مولوی صاحب سے عرض کی کہ اگر آپ اجازت دیں تو محمد کے نام کے ساتھ جی کا اضافہ کر دیں۔مولوی صاحب نے اجازت دے دی۔چنانچہ آپ نے اپنے بیٹے کا نام محمد جی رکھ دیا۔- آپ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔چنانچہ جہاں بھی موقعہ ملتا آپ تبلیغ ضرور کرتے۔آپ کی تبلیغ کی وجہ سے آپ کے تینوں بھائی بھی احمدی ہو گئے اور سارے خاندان میں احمدیت پھیل گئی۔آپ کی تبلیغ کے زیر اثر لدھیانہ ضلع کے کم و بیش سات خاندان احمدیت میں داخل ہوئے۔۱۹۳۸ء میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد ہجرت کر کے قادیان چلے گئے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنا اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا رجسٹری شدہ مختار عام بنالیا۔بعدہ سیکرٹری امانت تحریک جدید کا چارج بھی آپ کو دے دیا۔ان دونوں عہدوں پر آپ ۱۹۴۸ء تک فائز رہے۔پھر پیرانہ سالی کی وجہ سے آپ ان کاموں سے فارغ ہوئے۔آپ نماز تہجد بڑے التزام سے ادا کرنے کے عادی تھے۔۔۔نمازوں میں بہت سوز سے دعائیں کرتے اور ہر ایک نیکی اور نمازوں میں باقاعدگی کی تلقین کرتے۔ہر جلسہ سالانہ پر سارے کنبہ کے ساتھ ضرور شامل ہوتے۔۴۵ آپ کی وفات ۸۰ سال کی عمر میں ۲۴۔اپریل ۱۹۶۴ء کو لاہور میں ہوئی اور اسی دن آپ کے جسد خاکی کو بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ صحابہ میں سپردخاک کیا گیا۔فانا الله و انا اليه راجعون۔٥ اولاد: ایک لڑکا۔پانچ لڑکیاں۔پانچ پوتے۔تین پوتیاں۔پندرہ نواسے۔بائیس نواسیاں۔بائیس پڑپوتے اور پڑپوتیاں۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ آپ نے اپنی وفات سے چند دن قبل میوہسپتال سے خاکسار کو خط لکھا۔جس میں ملاقات کی خواہش کا اظہار تھا۔حالت تسلی بخش تھی مگر آنا فانا وفات ہوگئی۔فانا لله وانا اليه راجعون۔