لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 29 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 29

29 شخص منسٹر تھے اور ایگزامینر آفس میں بڑے آفیسر تھے اور اپنی نیکی اور خوش اخلاقی کیلئے معروف تھے۔سوشل کاموں میں آگے آگے رہتے۔وہ اس جلسہ میں موجود تھے۔ایک تخت جو مسلمان کہلاتا تھا آیا اور اس نے اپنے غیظ و غضب کا اظہار نہایت ناسزا وار الفاظ اور گالیوں کی صورت میں کیا۔حضرت اپنی پگڑی کا شملہ منہ پر رکھے سنتے رہے اور بالکل خاموش تھے۔آپ کے چہرہ پر کسی قسم کی کوئی علامت نفرت یا غصہ کی ظاہر نہیں ہوئی۔یوں معلوم ہوتا تھا گویا آپ کچھ سنتے ہی نہیں۔آخر وہ تھک کر آپ ہی خاموش ہو گیا اور چلتا بنا۔حاضرین میں سے اکثر کو غصہ آتا تھا مگر کسی کو یہ جرأت حضرت کے ادب کی وجہ سے نہ تھی کہ اسے روکتا۔جب وہ چلا گیا تو موز مدار نے کہا ”ہم نے مسیح کی بُردباری کے متعلق بہت کچھ پڑھا ہے اور سنا ہے مگر یہ کمال تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے انہوں نے اس سلسلہ میں بہت کچھ کہا اور چونکہ ان کے دفتر میں ہماری جماعت کے اکثر احباب تھے اور وہ ان سب کا احترام کرتے تھے اور حضرت منشی نبی بخش صاحب پر تو ان کی خاص نظر تھی۔وہ اکثر اس واقعہ کو بیان کرتے اور حضرت کے کمال ضبط کی تعریف کرتے ، مدعی مہدویت کا حضور پر حملہ انہی ایام کا واقعہ ہے کہ ایک روز حضرت اقدس حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب والی مسجد واقعہ لنگے منڈی میں ظہر یا عصر کی نماز پڑھ کر واپس اپنی جائے قیام کی طرف جا رہے تھے کہ پیچھے سے ایک شخص نے جو اپنے آپ کو امام مہدی کہتا تھا۔آپ کی کمر میں ہاتھ ڈالا۔وہ آپ کو اٹھا کر گرانا چاہتا تھا مگر نہ تو اٹھا سکا اور نہ گرا سکا۔حضرت سید امیر علی شاہ صاحب سیالکوٹی نے اسے پکڑ کر مارنا چاہا۔مگر حضرت نے مسکرا کر فرمایا کہ اسے کچھ نہ کہو۔یہ تو سمجھتا ہے کہ اس کا عہدہ میں نے سنبھال لیا ہے۔وہ شخص مکان تک برابر پیچھے آیا اور جب حضرت اقدس اندر تشریف لے گئے تو اس نے باہر کھڑے ہو کر تقریر چنانچہ ۲ ستمبر ۱۸۹۲ء کو جو اشتہار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی کی امداد کیلئے شائع فرمایا تھا اس میں چندہ دینے کا جن لوگوں نے وعدہ کیا ان میں دفتر ایگزامینر کے حسب ذیل دوست شامل تھے۔حضرت صوفی نبی بخش صاحب، میاں محمد علی صاحب، میاں مظفر دین صاحب میاں عبدالرحمن صاحب حافظ فضل احمد صاحب اور منشی مولا بخش صاحب۔( تبلیغ رسالت جلد دوم صفحہ ۱۱۸)