لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 30
30 شروع کر دی۔یہ شخص گوجر انوالہ کا باشندہ تھا اس کا بھائی پیغمبر اسنگھ احمدی ہو گیا تھا۔اس نے اپنے بھائی کی طرف سے معافی مانگی تھی اور لاہور ہی کی ایک مجلس میں حضور پر پھول نچھاور کئے تھے یے یہ شخص بہت عرصہ تک قادیان میں بھی رہا۔نہایت ہی مخلص اور فدائی احمدی تھا۔اس کے اخلاص کا یہ عالم تھا کہ حضرت بابا نانک کے چولہ جیسا ایک چولہ بنوا کر پہنے پھرتا تھا۔خلافت ثانیہ میں وفات پائی۔مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری سے مباحثہ قیام لاہور کا ایک اہم واقعہ حضرت اقدس کا مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری کے سے اس امر پر مناظرہ تھا کہ آپ نے اپنی کتابوں یعنی فتح اسلام تو ضیح مرام“ اور ”ازالہ اوہام میں یہ الفاظ لکھے تھے کہ ”محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے۔مولوی صاحب کا موقف یہ تھا کہ ان الفاظ سے نبوت حقیقیہ کا دعویٰ ظاہر ہوتا ہے لیکن حضرت اقدس کے یہ فرمانے پر کہ ان الفاظ سے میری یہ مراد نہیں اور نہ ان کا یہ مطلب ہے کہ میں نے نبوت حقیقیہ کا دعویٰ کیا ہے اور یہ مضمون لکھ کر دے دینے پر مناظرہ ختم ہو گیا تھا کہ اس عاجز کے رسالہ فتح اسلام و توضیح مرام وازالہ اوہام میں جس قد را ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محد ثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت نا قصہ ہے۔یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کی رو سے بیان کئے گئے ہیں۔ورنہ حاشا و کلا مجھے نبوت حقیقی کا ہر گز دعوی نہیں ہے بلکہ جیسا کہ میں کتاب ازالہ اوہام صفحہ ۱۳۷ میں لکھ چکا ہوں۔میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید و مولا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں میں یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔اور اس کو ( یعنی لفظ نبی کو ) کاٹا ہوا خیال فرمالیں لا ہور اسٹیشن پر پنڈت لیکھرام کے سلام کا جواب نومبر ۱۸۹۳ ء میں حضور اپنے خسر حضرت میر ناصر نواب صاحب کو جو ان ایام میں محکمہ نہر میں ملازم