لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 293
293 میں ہے جو کہ حضرت صاحب زادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے ہمیں تحفہ دیا ہوا ہے۔جزاه الله تعالى خيراً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قلم مبارک سے میرے والد صاحب کے نام خط لکھا۔اور پھوپھی جان کا رشتہ حضرت خلیفہ ڈاکٹر رشید الدین صاحب کے لئے مانگا۔جس میں لکھا تھا کہ میری خواہش ہے کہ آپ یہ رشتہ کر دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری سفر لاہور میں آپ بھی شامل تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طبیعت خراب ہونے پر صدقہ کے جو بکرے منگوائے گئے۔آپ انہیں خرید کر لائے۔مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے انہیں کہا کہ آپ ہی انہیں ذبح کریں کیونکہ آپ بھی اہلبیت میں سے ہیں۔واپسی پر بٹالہ سے قادیان تک جسد مبارک کو قادیان لے جانے والوں میں آپ بھی شامل تھے۔۱۲ ۱۹۱۱ء میں بسلسلہ ملازمت بہاولپور تشریف لے گئے اور کئی برس تک ملٹری ہاسپٹل بہاولپور کے میڈیکل آفیسر رہے۔آپ حد درجہ کے مہمان نواز اور سخی تھے۔بیماروں کا نہ صرف ہمدردی سے علاج کرتے تھے بلکہ نقدی، کپڑوں اور غذا سے بھی مدد فرمایا کرتے تھے۔تبلیغ کا بھی بہت شوق تھا۔سلسلہ کی کتب خریدتے اور غیر احمدی احباب میں تقسیم کر دیتے بڑے متوکل انسان تھے۔اللہ مالک ہے، تکیہ کلام تھا۔قرآن کریم کا معتد بہ حصہ زبانی یاد تھا۔حضرت اقدس کے اُردو اور فارسی اشعار بہت سے یاد تھے۔ہم بچوں کے اندر یہ ذوق پیدا کرنے کیلئے اکثر ہمارے ساتھ بیت بازی ہوتی۔بچوں کی ذہانت پر خوش ہو کر انہیں انعام بھی دیتے۔خود بھی شعر کہہ لیتے تھے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جب پہلی مرتبہ دورہ یورپ پر تشریف لے گئے۔ان دنوں آپ کی نظم مشرق و مغرب کو آپس میں ملائے قادیان“ الفضل میں چھپی تھی جو بہت مقبول ہوئی۔حضرت ام المومنین کی وفات پر بھی آپ نے قطعہ تعزیت لکھا تھا۔جو مصباح میں چھپ چکا ہے۔تاریخ وفات تھی۔