لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 292
292 ۴۔منظر علی ۱۳۰۰ هجری ۵۔مراد خاتون ۱۳۰۲ ہجری (زوجہ حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب) ۶۔ڈاکٹر اقبال علی غنی ۱۳۰۴ هجری حضرت دادا جان کی وفات کے بعد حضرت تایا جان اور حضرت والد صاحب کم عمری میں ہی ملازمت کے سلسلہ میں افریقہ تشریف لے گئے۔حضرت والد صاحب بتایا کرتے تھے کہ ہم دونوں بھائی کچھ فاصلہ پر کام کرتے تھے۔میں ان دنوں خوب فیشن ایبل تھا اور دین کی طرف کم ہی دھیان تھا۔رخصت لیکر بڑے بھائی صاحب کو ملنے آیا تو انہیں دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ان کے اندر نمایاں تبدیلی پیدا ہو چکی تھی۔خوبصورت چہرہ پر ایک چھوٹی سے داڑھی عجب بہار دکھا رہی تھی اور نماز و عبادت سے شغف بڑھ گیا تھا۔مجھے بتایا گیا کہ آپ مکرم ڈاکٹر رحمت علی صاحب ( برا در حضرت حافظ روشن علی صاحب و بہنوئی حضرت مولوی غلام رسول صاحب وزیر آبادی ) کی تبلیغ سے احمدی ہو چکے ہیں۔میں چونکہ اپنے بھائی کا بہت احترام کرتا تھا۔اس لئے ان میں یہ تغیر دیکھ کر میں نے بھی بیعت کا خط لکھا دیا۔پھر قادیان آکر دستی بیعت بھی کی۔حضرت والد صاحب اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو بڑی مشکل سے قادیان لائے۔حضرت دادی جان تو اس شرط پر رضا مند ہوئیں کہ انہیں (حضرت) مرزا صاحب (علیہ الصلوۃ والسلام ) کے گھر جانے پر مجبور نہ کیا جائے۔قادیان آنے پر وہ ایک دفعہ ہمسایہ عورتوں کے ساتھ مل کر اپنی مرضی سے حضرت اماں جان کی ملاقات کو تشریف لے گئیں اور اس قدر گرویدہ ہو ئیں اور ایسا تعلق قائم کر لیا کہ مرتے دم تک نہ چھوڑا۔" انہیں سب ” بو بوجی کہتے تھے۔حضرت والد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں کچھ عرصہ کے لئے لنگر خانہ کے مہتمم کے طور پر بھی کام کیا۔اخبار ” البدر کے ابتدائی نمبروں میں آپ کا نام بطور مہتم درج ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مشہور الہام رب كــل شـــی خـادمک رب فاحفظنی و انصرنی و ارحمنی بھی انہی دنوں ” البدر میں شائع ہوا تھا۔آپ کا عالم جوانی کا ایک فوٹو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور دیگر صحابہ کرام کی معیت