لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 252
252 کی۔قادیان میں نویں کلاس میں پڑھتا تھا کہ بیمار ہو گیا اور تعلیم چھوڑنا پڑی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰۴ء میں لیکچر دینے کیلئے تشریف لائے تو میں بھی ساتھ آ گیا۔مجھے حافظ حامد علی صاحب سید مٹھا کے حکیم فضل الہی صاحب کے پاس لے گئے حکیم صاحب بھی احمدی تھے ) اور کہا کہ اس بچے کو کہیں ملا زم کروا دیں۔حکیم صاحب مجھے دلباغ رائے کے پاس لے گئے وہ البرٹ پر لیس پرانی انار کلی کے مالک تھے۔چنانچہ میں نے اس پر لیس میں کمپوزیٹر کا کام سیکھا۔میرے والد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے با بو غلام محمد صاحب فورمین کو خط لکھوایا کہ وہ مجھے کہیں ملازم کروا دیں۔چنانچہ حضور نے لکھا کہ حامل ہذا کے بچے عبد الکریم کو ملازم کروا دیں“ یہ حضور کے خط کا مفہوم ہے۔اصل خط بھی کہیں محفوظ ہوگا۔بہر حال جب وہ خط بابو صاحب کو ملا تو انہوں نے مجھے ریلوے میں ملازم کروا دیا۔جہاں سے میں ۳۶ سال کی ملازمت کے بعد ریٹائر ہوا۔ایک سال گھر رہا۔پھر دفتر والوں نے بلالیا اور ایک سال دس ماہ ملا زم رکھا۔اولاد: عبدالقدیر - سلیمہ بیگم۔امتہ اللہ سعیدہ بانو۔فہمیدہ لئیقہ۔درشہوار۔بشر کی مشین۔عبدالحی حضرت میاں معراج دین صاحب پہلوان ولادت : ۱۸۸۰ء بیعت : ۱۸۹۸ء وفات : ۲۲ مارچ ۱۹۶۵ء حضرت میاں معراج دین صاحب پہلوان حلقہ بھاٹی گیٹ محلہ پٹ رنگاں لاہور بہت پرانے بزرگ ہیں۔پہلوانی میں مصروف رہنے کی وجہ سے زیادہ علمی کام نہیں کر سکے۔باوجود معمر ہونے کے اب بھی جسم خاصا مضبوط ہے۔اندرون بھائی میں اپنے بھائی محترم حکیم سراج الدین صاحب کے ساتھ محلہ پٹ رنگاں میں رہتے ہیں۔فرمایا کرتے ہیں کہ میں اپنے استاد کے کاغذات لے کر محلہ وچھو والی میں پنڈت لیکھرام کے پاس جایا کرتا تھا۔خاکسار کے اس سوال پر کہ آپ کی احمدیت کا باعث کیا ہوا۔فرمایا کہ میاں عبد العزیز صاحب مغل ہمارے محلہ میں تبلیغ کیا کرتے تھے۔پنڈت لیکھرام کے قتل کو ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا۔تمام شہر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی