لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 253
253 کے پورا ہونے کا چرچا رہتا تھا کہ ۱۸۹۸ء میں حضور ہمارے بازار بھائی دروازہ میں سے گذرے۔حضور کے ساتھ کوئی تمیں کے قریب آدمی تھے۔مجھے اور میاں مولا بخش صاحب دکاندار کو جب علم ہوا ہم بھی حضور کی زیارت کیلئے بازار میں پہنچے۔میاں مولا بخش صاحب نے حضور کو دیکھ کر پہلے ایک اچھا سا کلمہ کہا جو مجھے یاد نہیں۔اور پھر کہا۔سبحان اللہ ! یہ منہ۔جھوٹوں کا نہیں ہو سکتا۔مولا بخش صاحب احمدی نہیں ہوئے مگر مخالفت بھی کبھی نہیں کی۔ایک شخص مولوی ٹاہلی ( ٹاہلی پنجابی میں شیشم کے درخت کو کہتے ہیں۔ناقل ) کے نام سے مشہور تھا۔یہ میاں عبدالعزیز صاحب مغل کے مکان کے سامنے شیشم کے درخت پر چڑھ کر بکو اس کیا کرتا تھا۔ہم نے اسے دیکھا کہ وہ ایسا ذلیل ہوا کہ بالکل مخبوط الحواس ہو کر پرانے کپڑوں کی گانٹھ پیٹھ کے پیچھے اٹھائے پھرتا تھا اور سر پر بھی چیتھڑے ہوتے تھے اور پاگلوں کی طرح پھرا کرتا تھا۔اسی حالت میں مر گیا۔ایک شخص پیر بخش نام ہوا کرتا تھا۔رسالہ تائید الاسلام کا ایڈیٹر تھا۔ایک دفعہ اس نے ہماری دوکان پر کہا کہ تم کہا کرتے ہو انی مهین من اراد اهانتک مرزا صاحب کا الہام ہے۔میں ایک لمبے عرصے سے توہین کر رہا ہوں، مجھے کچھ نہیں ہوتا۔شیخ عطاء اللہ صاحب نے ہمیں کہا کہ آج کی تاریخ نوٹ کر لو۔یہ شخص پکڑا گیا ہے۔بڑا امیر آدمی تھا۔اس کا لڑکا حکومت افغانستان کی طرف سے ولایت میں ایک مشینری خرید نے گیا ہوا تھا کہ وہاں ہی مر گیا۔جب اس کی وفات کی خبر پیر بخش کو پہنچی تو وہ خبر اس پر بجلی بن کر گری۔چنانچہ اسے فالج ہو گیا اور اسی مرض میں مبتلا ہو کر وہ مر گیا۔افسوس حضرت میاں معراج الدین صاحب پہلوان کل مورخه ۲۲ مارچ ۱۹۶۵ء کو صبح دس بجے چند روز بیمار رہ کر وفات پاگئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔آج مورخہ ۲۳۔مارچ ۱۹۶۵ء کو بھائی دروازہ کے باہر ایک بہت بڑے مجمع میں جس میں محترم جناب چوہدری اسد اللہ خان صاحب امیر جماعت لاہور بھی موجود تھے۔خاکسار کو ان کی نماز جنازہ پڑھانے کا شرف حاصل ہوا۔اسی وقت نعش بہشتی مقبرہ ربوہ میں صالحین جماعت احمدیہ کے ساتھ دفن کرنے کے لئے ربوہ لے جائی گئی۔انا للہ ونا اليه راجعون۔اولاد: ظہور دین مرحوم، بختاور سلیمہ۔