لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 251
251 پہنچے۔حضور نے ہم سے فرمایا کہ آپ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے؟ ہم نے عرض کیا حضور! ہم روزہ دار ہیں۔حضور اندر تشریف لے گئے۔پانی لائے اور ہمارے روزے افطار کروا دیئے۔فرمایا کہ سفر میں روزہ کیسا ؟ اسی روز دوسری گاڑی سے شیخ رحمت اللہ صاحب پہنچے۔حضور نے ان سے دریافت فرمایا۔آپ کو روزہ ہے؟ شیخ صاحب نے عرض کی۔ہاں حضور ! روزہ ہے۔فرمایا۔اب تو تھوڑ ا دن رہ گیا ہے آپ روزہ پورا کر لیں چنانچہ شیخ صاحب نے روزہ پورا کر لیا۔جہاں تک مجھے یاد ہے۔عصر کا وقت تھا اور گرمیوں کا موسم تھا۔حضرت منشی محبوب عالم صاحب راجپوت سائیکل ورکس نیلا گنبد کے مالک تھے۔آپ جب آخری بیماری میں بیمار ہوئے تو آپ کے بڑے صاحبزادہ محترم قاضی محمود احمد صاحب نے آپ کی بہت خدمت کی۔بلکہ آخری چند ماہ میں تو آپ کے لئے مسجد دارالذکر کی سفید زمین میں تبدیلی آب و ہوا کے لئے ایک کمرہ تیار کر وایا تھا۔چنانچہ و ہیں آپ کی وفات ہوئی اور آپ ۱۹۔جولائی ۱۹۵۲ء کو بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن کئے گئے۔آپ کی اہلیہ محترمہ حسین بی بی صاحبہ بھی صحابیہ تھیں۔جنہوں نے ۱۹۰۶ء میں بیعت کی اور ۲۵ فروری ۱۹۶۰ ء کو ۳ے سال کی عمر میں وفات پائی_فانا لله وانا اليه راجعون۔اولاد محمود احمد مسعود احمد مرحوم رشید احمد ناصر احمد امتہ العزیز بیگم اہلیہ مولوی محب الرحمن صاحب آمنہ صدیقہ بیوہ مرزا مولا بخش صاحب مرحوم، صفیہ بیگم صاحبہ اہلیہ شیخ احمد حسن صاحب رضیہ بیگم صاحبہ اہلیہ ملک محمد خان صاحب نصرت جہاں بیگم صاحبہ اہلیہ ملک سعادت احمد صاحب محترم شیخ عبدالکریم صاحب گنج مغلپورہ ولادت: بیعت : ۱۸۹۸ء یا ۱۸۹۹ء خاکسار کے اس سوال پر کہ آپ کب اور کس طرح احمدی ہوئے ؟ محترم شیخ عبدالکریم صاحب آف گنج مغلپورہ نے فرمایا: میں وزیر چک نز د فیض اللہ چک ضلع گورداسپور کا باشندہ ہوں۔۱۸۹۷ء میں قادیان حصول تعلیم کیلئے گیا اور تیسری جماعت میں داخلہ لیا۔اس کے سال ڈیڑھ سال بعد بیعت