لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 144
144 آپ کی بات کو رد نہیں کیا۔آپ فرمائیے کیا کہنا چاہتے ہیں؟ شیخ صاحب نے فرمایا۔آپ ایک مرتبہ حضرت اقدس امام جماعت احمدیہ کی ملاقات کے لئے ربوہ تشریف لے چلیں۔پہلے تو شیخ صاحب یہ بات سن کر گھبرائے۔مگر پھر کہا کہ بھائی صاحب! آپ جانتے ہیں مجھے لوگ ملک کے بڑے آدمیوں میں شمار کرتے ہیں۔میں بغیر دعوت کے کیسے جاؤں؟ یہ سن کر محترم شیخ صاحب دین نے فوراً حضرت اقدس کی خدمت میں چٹھی لکھ دی جس میں جناب شیخ دین محمد صاحب کا یہ فقرہ بھی لکھ دیا۔حضرت اقدس نے شیخ صاحب دین صاحب کو لکھا کہ اگر شیخ دین محمد صاحب آجا ئیں تو مجھے خوشی ہوگی۔یہ خط لے کر شیخ صاحب فورا شیخ دین محمد صاحب کے پاس پہنچے۔محترم شیخ دین محمد صاحب یہ خط پڑھ کر ربوہ جانے کے لئے تیار ہو گئے۔ربوہ پہنچ کر دو تین گھنٹے حضور سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔اس ملاقات میں محترم شیخ صاحب دین صاحب کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور بعض اور بزرگ بھی شامل تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب شیخ دین محمد صاحب ملاقات کے کمرہ سے باہر آئے تو اس قدر خوش تھے کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں اور پھر تو اکثر کہا کرتے تھے کہ مسلمان تو یہ لوگ ہیں ہم تو کچھ بھی نہیں۔اس ملاقات کے بعد محترم شیخ صاحب موصوف نے وفات تک نہ صرف یہ کہ جماعت کی مخالفت نہیں کی بلکہ مداح رہے۔۱۹۳۱ ء میں حضرت شیخ صاحب دین صاحب کو بعض ضلعی خدمات کی وجہ سے ڈسٹرکٹ درباری کا سر ٹیفکیٹ بھی ملا۔آپ شہر گوجرانوالہ کے رؤساء میں شمار ہوتے تھے اور آپ کی رائے کو حکام وقت اور دیگر رؤساء بہت وقعت دیتے تھے۔میونسپل کمیٹی کی پریذیڈنٹی کیلئے بہترین شخصیت کے انتخاب کے لئے بھی آپ کا فیصلہ ہی صحیح سمجھا جاتا تھا۔جس شخص کو بھی کوئی دقت پیش آتی وہ آپ کو مدد کے لئے تیار پاتا۔۱۹۵۳ء میں جب احمدیوں کے خلاف شورش بہت بڑھ گئی اور احمدیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے منصوبے قریباً مکمل ہو گئے تو آپ نے اس شورش کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔پھر جب ۲۔مارچ ۱۹۵۳ء کو مارشل لا لگا اور شورش پسند مولوی صاحبان گرفتار ہو گئے تو آپ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے یہ اشعار خوب زور وشور سے پڑھا کرتے تھے: قادر ہو کے کاروبار نمودار گئے کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے