لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 145 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 145

145 کافر جو وہ نگوں سار ہو گئے جتنے تھے سب کے سب ہی گرفتار ہو گئے بازاروں میں، گلیوں میں، بڑی بڑی دکانوں پر کچہری میں، بار روم میں، دفاتر میں، غرضیکہ ہر عمدہ موقعہ پر آپ نے یہ اشعار اس کثرت کے ساتھ پڑھے کہ آپ کو دیکھ کر ہی لوگ یہ اشعار پڑھنا شروع کر دیتے تھے۔آپ لوگوں کی زبان سے یہ اشعار سن کر خوب زور سے کہتے کہ ہاں ! خدا کی بات پوری ہوگئی۔آپ جماعت احمد یہ گوجرانوالہ کے تمہیں سال تک سیکرٹری امور خارجہ رہے۔یکم مئی ۱۹۶۴ء کو بروز جمعۃ المبارک بعد نماز مغرب قریباً ۹۰ سال کی عمر میں وفات پائی۔فانا لله و انا اليه راجعون۔آپ کے بڑے صاحبزادے محترم جناب شیخ خواجہ محمد شریف صاحب * جنہوں نے یہ حالات لکھوائے ہیں۔فرمایا کہ آپ نے وفات کے روز تین بجے بعد دو پہر مجھ سے فرمایا کہ پانی کا لوٹالا ؤ تا میں وضو کر کے ظہر وعصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھ لوں۔چنانچہ وضو کے بعد آپ نے پلنگ پر بیٹھ کر ہی دونوں نمازیں پڑھیں۔چار بجے شام میں نے چائے کے لئے پوچھا تو مجھے غور سے دیکھا۔پھر کمرے میں ادھر ادھر دیکھ کر چھت کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں تو بہت خوش ہوں۔میں نے جب یہ حالت دیکھی تو سمجھا کہ یہ ان کا آخری وقت ہے۔چنانچہ پانچ بجے میں نے آپ کی چار پائی صحن میں نکالی۔آٹھ بجے شام تک دودھ اور شہد دیا جا تا رہا۔آخر وقت تک آنکھیں کھلی رہیں۔دیکھتے رہے مگر زبان سے کوئی بات نہ کی۔آہستہ آہستہ سانس لمبے اور چھوٹے ہوتے گئے اور آٹھ بجے شب اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے۔انا لله و انا اليه راجعون۔۲۔مئی بروز ہفتہ ۱۹۶۴ء کو شام سے پہلے گوجرانوالہ کے قبرستان میں امانتاً دفن کئے گئے۔خاکسار راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ خاکسار کے بڑے لڑکے شیخ عبد الماجد صاحب کی اہلیہ کے چونکہ آپ دادا تھے۔اس لئے خاکسار کو بھی اطلاع مل گئی تھی۔آپ کا جنازہ بھی خاکسار ہی کو پڑھانے کا شرف حاصل ہوا۔اولاد: آپ نے اپنے پیچھے تین لڑکے شیخ خواجہ محمد شریف صاحب شیخ محمد لطیف صاحب شیخ محمد حنیف صاحب ۹ پوتے ۱۱۴ پوتیاں اور ۴۴ پڑ پوتے پڑپوتیاں چھوڑی ہیں۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ محترم شیخ خواجہ حمد شریف صاحب کی پیدائش ۱۸۹۳ء کی ہے۔لہذا آپ بھی پیدائشی صحابی ہیں۔