لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 112
112 نماز پڑھیں۔پھر حضور اندر تشریف لے گئے اور کوئی آٹھ نو بجے کے قریب پہلے اس انگریز کی بیعت لی اور پھر میری۔ان ایام میں حضور ایک ایک آدمی کی الگ الگ بیعت لیا کرتے تھے۔اب ہم حضرت مغل صاحب کی کچھ روایات درج کرتے ہیں۔آپ کی روایات تو بہت ہیں۔اگر سب کو درج کیا جائے تو ایک مستقل رسالہ تیار ہو سکتا ہے مگر اس کتاب کی غرض اور ضخامت کو مدنظر رکھتے ہوئے محد و دروایات کے اندراج پر ہی اکتفا کی جاتی ہے۔فرمایا: ا۔ایک مرتبہ ہم رات کے آٹھ بجے بذریعہ ریل گاڑی بٹالہ پہنچے۔میں بائیں آدمی تھے۔جن میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور بابو غلام محمد صاحب بھی تھے۔چاند کی روشنی تھی اور گرمی کا موسم ہم رات کے ساڑھے گیارہ بجے قادیان پہنچے۔حضور اطلاع ملنے پر باہر تشریف لائے۔حافظ حامد علی صاحب کو بلا کر دریافت فرمایا کہ لنگر میں جا کر دیکھو۔کوئی روٹی ہے؟ انہوں نے عرض کیا۔حضور اڑھائی روٹیاں اور کچھ سالن ہے۔فرمایا۔وہی لے آؤ۔مسجد مبارک کی چھت پر ایک سفید چادر بچھائی گئی۔جس پر حضور تشریف فرما ہوئے۔ہم بھی حضور کے آس پاس بیٹھ گئے۔حضور نے ان روٹیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے آگے پھیلا دیئے مجھے خوب یاد ہے۔ہم نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا۔مگر چند ٹکڑے پھر بھی بچ گئے۔یہ واقعہ قریباً ۱۸۹ ء یا ۱۸۹۷ء کا ہے۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ حضرت بابو غلام محمد صاحب سابق فورمین نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی۔۲۔ایک دفعہ لیکھرام کے قتل کے بعد ہم قادیان گئے۔غالبا حکیم مرہم عیسی صاحب بھی تھے۔حضور نے فرمایا۔جاتی دفعہ اشتہارات ساتھ لے جانا۔اس زمانہ میں بٹالہ سے گاڑی تین بجے چلا کرتی تھی۔لہذا گیارہ بجے ہم نے عرض کی کہ حضور ابھی تک اشتہارات نہیں ملے اور ہم نے بٹالہ پہنچ کر تین بجے گاڑی پر سوار ہونا ہے۔فرمایا۔آپ اشتہارات لے کر جائیں۔گاڑی آپ کو مل جائے گی۔ڈیڑھ یا پونے دو بجے ہمیں اشتہارات ملے۔اڈے پر پہنچے تو یکہ کوئی نہ تھا۔پیدل چل پڑے۔ساڑھے پانچ بجے بٹالہ پہنچے۔سرائے چونکہ اسٹیشن کے قریب تھی۔ہم نے وہاں سے دیکھا کہ اسٹیشن پر شور پڑا ہوا ہے۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ چھینہ اسٹیشن پر ریلوے کا انجن خراب ہو گیا ہے۔لہذا گاڑی ابھی تک بٹالہ نہیں پہنچی۔پونے چھ بجے گاڑی آئی اور اس پر سوار ہوکر ساڑھے نو بجے رات لا ہو ر پہنچ گئے۔