لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 111 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 111

111 آپ اپنے والد بزرگوار سے اجازت حاصل کر کے امرتسر گئے۔اپنے نانا میاں قائم دین صاحب کو ہمراہ لیا اور عازم قادیان ہو گئے۔لیکن جب بٹالہ پہنچے تو آپ کے نانا صاحب نے اس خیال سے کہ اس بچہ نے انہیں خواہ مخواہ تکلیف دی ہے۔ممکن ہے قادیان میں کوئی ٹھہرنے کی جگہ بھی نہ ملے آپ کو ایک تھپڑ رسید کیا جس سے آپ کو بخار ہو گیا۔مگر قادیان پہنچنے کا جنون آپ کو قادیان لے ہی گیا۔فرمایا کرتے تھے کہ جب ہم قادیان پہنچے تو جہاں اب ( یعنی ۱۹۳۹ء میں جب کہ آپ نے یہ باتیں خاکسار کو مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ میں متعدد نشستوں میں سنائیں اور خاکسار نے قلمبند کیں۔عبدالقادر ) مسجد مبارک کی سیڑھیاں ہیں وہاں ایک تخت پوش پڑا تھا اور اس کے پاس ایک انگریز سیاہ اور کوٹ پہنے کھڑا تھا جس کے متعلق بعد میں پتہ لگا کہ احاطہ مدر اس سے آیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خادم حافظ حامد علی صاحب گول کمرہ کے پاس کھڑے تھے۔ان سے میں نے پوچھا کہ حضرت صاحب کہاں ہیں؟ وہ ہمیں مسجد اقصیٰ میں لے گئے جہاں حضرت صاحب چہل قدمی فرما رہے تھے۔ہاتھ میں چھڑی بھی تھی۔حضور نے ہمیں دیکھتے ہی حافظ صاحب سے فرمایا کہ حافظ صاحب ! ان کے کھانے کا بندوبست کریں۔مگر ہم نے عرض کی کہ حضور ہم نے کھانا کھا لیا ہے۔پھر ہم سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ حضور لاہور سے۔فرمایا۔آپ کے والد صاحب کا کیا نام ہے؟ میں نے کہا۔حضور میرے والد صاحب کا نام میاں چراغ دین ہے۔فرمایا میں ان کو جانتا ہوں۔پھر فرمایا۔آپ نے کوئی دین کی کتاب بھی پڑھی ہے۔میں نے عرض کیا۔حضور تذکرۃ الاولیاء پڑھی ہے۔اس کے بعد حضور نے بھی اور ہم نے بھی میاں جان محمد صاحب کی اقتداء میں نماز پڑھی۔پھر حضور ہمیں گول کمرہ میں لے آئے اور چونکہ ملکی ہلکی بارش بھی ہو رہی تھی اور سردی کا موسم بھی تھا اس لئے حضور ہمارے لئے اندر سے قہوہ لے آئے ساتھ خطائیاں بھی تھیں۔اس کے بعد شام کو حضور اندر سے ہمارے لئے کھانا لائے جو ہاتھ کی پکی ہوئی روٹیاں اور آلو گوشت تھا۔رات کو سوتے وقت حضور نے حافظ حامد علی صاحب کو حکم دیا کہ اس بچے کو بخار ہے لہذا اس کو ذرا دبا دو۔صبح حضور فجر کی نماز سے پہلے لالٹین ہاتھ میں لئے ہوئے تشریف لائے اور ہمیں جگا کر فر مایا کہ اٹھو چل کر لا یہ انگریز مسٹر ویٹ جان تھے جو ۱۳۔جنوری ۱۸۹۲ء کو احاطہ مدراس سے تشریف لائے تھے۔دیکھئے ”حیات طیبہ ایڈیشن دوم صفحہ ۱۳۸۔لہذا یہ معلوم ہوا کہ حضرت میاں مغل صاحب کی بیعت جنوری ۱۸۹۲ء کی ہے۔