لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 90 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 90

90 رہتے تھے۔اور خلیفہ ہدایت اللہ صاحب کے متعلق مجھے افسوس ہے کہ ان کے ورثاء نے ان کو یہاں دفن کر دیا ہے۔ان کے لئے صندوق نہیں بنوایا گیا تھا ورنہ میں اپنے خرچ پر ان کی نعش کو قادیان لے جاتا۔ایک تیسرے شخص کا نام بھی حضور نے لیا تھا مگر مجھے اس کا نام یاد نہیں رہا۔رجسٹر ڈ روایات صحابہ حصہ چہارم لکھا ہے کہ مولوی غلام حسین صاحب لاہوری کا جنازہ حضرت مسیح موعود نے پڑھایا اور جنازہ کو کندھا دیا۔حضرت مسیح موعود مسجد مبارک میں تشریف رکھتے تھے کہ انبیاء کے متبعین کا ذکر چل پڑا۔حضور نے فرمایا کہ عام طور پر انبیاء کے ماننے والے ان سے کم عمر کے لوگ ہوتے ہیں۔بڑے بوڑھے بہت کم مانتے ہیں مگر مولوی غلام حسین صاحب لاہوری اور بابا ہدایت اللہ شا عر لاہوری یہ دونوں ایسے ہیں جو بڑے اور بوڑھے ہو کر ایمان لائے ہیں (صفحہ ۴۲) ۳۱۳۔اصحاب کی فہرست مندرجہ ” انجام آتھم ، میں آپ کا نام ۱۳۳ نمبر پر ہے۔محترم مرزا خدا بخش صاحب ولادت: ۱۸۵۹ء بیعت : ابتدائی ایام میں وفات: ۶۔اپریل ۱۹۳۷ء مرزا خدا بخش صاحب دراصل جھنگ کے رہنے والے تھے۔چند سال چیف کورٹ پنجاب میں مترجم کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔بہت ابتدائی زمانہ میں بیعت کی۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے اتالیق بھی رہے اور ایک مشہور کتاب دعسل مصفی “ کے نام سے تصنیف کی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی وفات کے بعد غیر مبائعین کے ساتھ شامل ہو گئے تھے اور اسی حالت میں فوت ہوئے۔۳۱۳۔اصحاب کی فہرست مندرجہ انجام آتھم میں آپ کا نام ۴۲ نمبر پر درج ہے۔رجسٹر بیعت میں آپ کا نام ۶۴ نمبر پر ہے۔جناب شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش و بیئر ہاؤس لاہور ولادت: بیعت : ۲۹ - مئی ۱۸۹۱ء وفات : ۱۰۔مارچ ۱۹۲۴ء آپ بالکل ابتدائی صحابہ میں سے تھے۔چنانچہ تمبر 19ء کو جو سفر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے