لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 89 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 89

89 پھر کوئی ایسی صورت ہونی چاہیئے کہ مولوی صاحب کو پتہ نہ لگے کہ ہم کس وقت سیر کے لئے چلے جاتے ہیں۔انہوں نے باتوں باتوں میں مولوی صاحب سے پتہ لگا لیا کہ وہ کس وقت غائب ہوتے ہیں۔چنانچہ دوسرے دن ہم اسی وقت سیر کے لئے چل پڑے۔ابھی پندرہ ہیں منٹ ہی گذرے ہوں گے کہ ہم نے دیکھا وہ دور سے ایک بڑا سا سونٹا اپنے ہاتھ میں پکڑے اور لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے ہماری طرف آ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں ٹھہر جاؤ۔ٹھہر جاؤ۔مجھے بھی آلینے دو۔جب ہمارے پاس پہنچے تو میرے ساتھیوں سے کہنے لگے۔یہ حضرت صاحب کے لڑکے ہیں اور یہاں سب لوگ دشمن ہیں۔ان کو اکیلے نہیں جانے دینا چاہیئے۔آپ لوگ میرا بھی انتظار کر لیا کریں۔غرض بہت ہی مخلص اور نیک انسان تھے۔ان کی عادت تھی کہ وہ رومی ٹوپی والوں سے مصافحہ کرنے سے بہت گھبراتے تھے اور اگر کوئی ان کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو وہ اپنا ہاتھ پیچھے کر لیتے۔اور کہتے تسیں مصافحہ نہیں کر دے تسیں تے باہواں تو ڑ دے او یعنی آپ لوگ مصافحہ نہیں کرتے آپ تو ہاتھ توڑتے ہیں۔حضرت میاں محمد شریف صاحب نے بیان کیا کہ جب آپ آخری بیماری میں بیمار ہوئے تو جناب ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب ان کا علاج کیا کرتے تھے۔جب بہت ہی کمزور ہو گئے تو ڈاکٹر صاحب نے ایک دن ان سے عرض کیا کہ مولوی صاحب! اگر آپ وفات پا جائیں تو کیا آپ کا جنازہ قادیان لے جائیں؟ فرمایا۔کیا حرج ہے؟ چنانچہ جب فوت ہوئے تو ان کا جنازہ قادیان لے جایا گیا۔حضرت با بو غلام محمد صاحب ریٹائرڈ فورمین فرمایا کرتے تھے کہ جب ہم ان کا جنازہ قادیان لے کر گئے تو ہم چاہتے تھے کہ انہیں بہشتی مقبرہ میں دفن کیا جائے مگر معتمدین نے اعتراض کیا کہ ان کی وصیت کوئی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب ان کے اس اعتراض کا علم ہوا تو حضور نے فرمایا کہ ان کی وصیت کی کیا ضرورت ہے؟ یہ تو مجسم وصیت ہیں۔یہ ہوئے خلیفہ ہدایت اللہ لا ہوری ہوئے۔ایسے لوگوں کی وصیت کی کیا ضرورت ہے؟ مولوی صاحب حد درجہ کے متقی تھے۔حضور کے عاشق تھے اور دینی کاموں پر ہر وقت کمر بستہ