لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 91
91 د بلی کا اختیار فرمایا اس میں آپ ساتھ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ازالہ اوہام صفحہ ۵۳۷ میں ان کے متعلق لکھا ہے: جبی فی اللہ شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی جوان صالح یکرنگ آدمی ہے۔ان میں فطرتی طور پر مادہ اطاعت اور اخلاص اور حسن ظن اس قدر ہے جس کی برکت سے وہ بہت ہی ترقیات اس راہ میں کر سکتے ہیں۔ان کے مزاج میں غربت اور ادب بھی از حد ہے اور ان کے بشرہ سے علامات سعادت ظاہر ہیں۔حتی الوسع وہ خدمات میں لگے رہتے ہیں۔خدا تعالیٰ کشاکش مکروہات سے انہیں بچا کر اپنی محبت کی حلاوت سے حصہ وافر بخشے۔آمین ثم آمین شیخ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عاشق صادق تھے۔چونکہ کپڑے کے بڑے تاجر تھے اس لئے عموماً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں گرم کپڑے تیار کر کے بڑے اخلاص سے پیش کیا کرتے تھے۔افسوس کہ یہ بھی حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے اور خواجہ کمال الدین صاحب کی پارٹی میں شامل ہو گئے مگر انہوں نے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی کبھی مخالف نہیں کی۔بلکہ حضور کا نام بھی عزت و احترام کے ساتھ ہی لیا کرتے تھے۔آپ کی وفات ۱۰۔مارچ ۱۹۲۴ء کو ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۳۰ ستمبر ۱۸۹۵ء کو چولہ با وانا نک صاحب کی تحقیقات کے لئے جوسر اختیار فرمایا تھا اس میں علاوہ اور احباب کے حضرت شیخ رحمت اللہ صاحب بھی ساتھ تھے۔سے ۳۱۳ اصحاب کی فہرست مندرجہ ” انجام آتھم میں آپ کا نام ۷۲ نمبر پر ہے۔ان کے بھائی شیخ عبدالرحمن صاحب اور بھتیجے شیخ عبد الرزاق صاحب بیرسٹر بھی صحابی تھے۔خاکسا مؤلف عرض کرتا ہے کہ شیخ عبدالرزاق صاحب ۱۹۳۲ء میں لالکپور پریکٹس کرتے تھے اور لاہوری فریق کیساتھ شامل تھے۔لیکن جب حضرت اقدس امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ مسجد احمد یہ لائل پور کا افتتاح کرنے کے لئے تشریف لے گئے تو انہوں نے حضور کی بیعت کر لی۔اور پھر اس قدر اپنے اندر تبدیلی پیدا کی کہ فجر، مغرب اور عشاء کی نمازیں باقاعدگی کے ساتھ مسجد میں جا کر پڑھنے لگے اور ظہر وعصر کچہری کے احاطہ میں پڑھتے تھے۔نوجوان بچیاں جو انگریزی لباس میں پھرا کرتی تھیں ان کو برقعے تیار کروا دیے اور انہیں با قاعدہ جمعہ کی نماز میں ساتھ لایا کرتے تھے۔اللهم اغفره وارحمه