لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 410
410 انوکھا سادہ اور دوسروں سے مختلف ہوتا تھا۔آپ تبلیغ کے لئے عام طور پر ایسی روحیں اور دل چنتے جن پر دوسروں کی نگاہ کم از کم پڑتی ہو اور جو دنیا والوں کی نگاہ میں بڑے کم مایہ اور معمولی ہوتے مگر احمدیت کی جلاء پاتے ہی یہ ذرے ایسے آفتاب بنتے کہ دیکھنے والوں کی نگاہیں خیرہ ہو جاتیں۔اسی طرح کے دو ایک چکروں کے بعد نومبر کی پہلی یا دوسری تاریخ ہی کو گھر سے نکل کھڑے ہوتے۔سال کے اس آخری دورے میں زیر تبلیغ دلوں کے روحانی استحکام کا جائزہ لیتے۔ان کے ذہنوں کے اشکال و شبہات کھنگالتے انہیں دور کرتے۔جلسہ سالانہ کی برکات ذہن نشین کراتے۔اسلام کی اجتماعتی شان وشوکت کا نظارہ کھینچتے اور یوں پھرتے پھراتے جب ہفتوں کی مسافت کے بعد دار الامان پہنچتے تو ان کے ساتھ ہر سال پندرہ ہیں تازہ واردان کا قافلہ ہوتا جن میں سے اگر آٹھ دس بیعت کر جاتے تو باقی آئندہ سالوں کے لئے پوری طرح تیار ہو جاتے اور ان کے دل احمدیت کے متعلق خوش ظنیوں سے بھر جاتے اور یوں ہر سال چراغ سے چراغ جلتا چلا جاتا۔گھر میں (بشمول حضرت والدہ محترمہ مدظلہا ) سب کو قرآن کریم کا ترجمہ آپ نے خود پڑھایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض اہم کتب کا مطالعہ سبقاً سبقاً کروایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اُردو عربی اور فارسی کلام آپ کو کم و بیش تین چوتھائی از بر تھا۔بلکہ حضور کی اُردو در مشین کی دو تہائی نظمیں تو ہم تینوں بھائیوں کو جن میں سے مجھے سے بڑے محمد اقبال جو احمدیت کے فدائی تھے اور ۴ دسمبر ۱۹۳۳ء کو اللہ کو پیارے ہوئے میٹرک پاس کرنے سے قبل ہی از برتھیں۔اور حضور کے عربی قصیدہ الہامیہ کا شب وروز وردتو حضرت ابا جان کا معمول تھا۔میرے چھوٹے بھائی محمد بشیر سلمہ نے چوتھی جماعت ہی میں قرآن کریم حفظ کرنا شروع کر دیا تھا۔ان کی قرآت میں جاذبیت ہے۔اس لئے ہمارے قصبے کے بیشتر جلسے عموماً گھر کے افراد ہی سے ہو جایا کرتے۔عزیزم محمد بشیر سلمہ تلاوت کرتے۔میں نظم پڑھتا اور حضرت ابا جان تقریر فرما دیتے۔سبحان اللہ۔کیسی خوشگوار ہیں یہ یادیں اور کس قدر ایمان افروز ہے یہ ذکر جس سے زندگی اب تمام عمر کسب سکون و طمانیت کرے گی۔۔۔۔۔۔۔بھلا اب