لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 411 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 411

411 یہ سر تا پا تو کل و تبلیغ ہستیاں اور احمدیت کی چلتی پھرتی تصویر میں کہاں؟ درولیش باپ آپ کو شاید یہ سن کر حیرانی ہو کہ علم دین میں ایسا شغف درک اور دسترس رکھنے والا میرا درویش باپ دنیا کے معاملات میں ایسا بے نیاز اور بے پروا تھا کہ ایک روپے کی ریز گاری گنتے ہوئے بھی غلطی کھا جاتا تھا۔بازار والے اسے جیسا چاہتے سڑا بسا سودا دے دیتے وہ لے آتا۔جتنے پیسے لوٹاتے لے کر گھر چلا آتا۔مجھے خوب یاد ہے ایک دفعہ جب دو چار دن مسلسل گھر میں اسی قسم کا ذکر سننے میں آیا تو ایک دن میرے چھوٹے بھائی محمد بشیر سلمہ نے دریافت کیا۔ابا جان ! عام زندگی میں تو آپ اچھے اور برے آلوؤں میں بھی پہچان نہیں کر سکتے آپ نے وقت کے امام کو کیسے پہچان لیا تھا۔“ تو آپ نے اسے اپنے روایتی تقسیم کے بعد فرمایا: 'بیٹا وہ تو چہرہ ہی ایسا کھلی اور پاکیزہ کتاب کی طرح تھا کہ اس پر نگاہ ڈالتے ہی دل کے تمام شکوک وشبہات دور ہو جاتے اور ذہن کی تمام گر ہیں کھل جاتی تھیں اور یہ کہتے ہوئے حلق رندھ گیا۔آنکھیں ڈبڈبا اٹھیں اور ماحول پر ایک ایمان افروز تاثر حاوی ہو گیا۔جو مل جا تا شکر ایزد کے ساتھ کھا لیتے، جو میسر آ جا تا الحمد للہ کہہ کر پہن لیتے اور یہ یقیناً اس تشکر و توکل ہی کا کرشمہ ہے کہ محدود آمدنیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ہم سب کی سفید پوشی کا نیک بھرم قائم رکھا۔سلسلہ کی تمام اہم مالیاتی تحریکوں میں حسب خواہش حصہ لینے کی توفیق سے نوازا۔اور آج تک بھی کسی ایسی ضرورت اور احتیاج میں مبتلا نہیں کیا جو عزت نفس کے مجروع ہونے کے بعد پوری ہونے والی ہو۔الحمد للہ ! اور یہ اسی بلند و برتر کا فضل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت اور حضرت ابا جان کی کوششوں اور دعاؤں کے طفیل (بحمد للہ) گھر کے تمام افراد ایک دوسرے سے بڑھ کر اسلام حمدیت سے دعوی شیفتگی رکھنے والے ہیں اور اسی نور کو سرمایہ حیات گردانتے ہیں (اللهم زد