لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 409
409 اور یہ بھی کہ جب ہم قادیان سے لوٹے تو تاثیر و تاثر کا یہ عالم تھا کہ بس جس سے بھی ذکر چھڑا گھائل ہو گیا۔شاگر درشید کی لگن حضرت مولوی صاحب کو لمبی عمر نصیب نہ ہوئی لیکن وہ اپنے فیض تربیت سے اپنے شاگر درشید کے قلب و ذہن میں احمدیت کے ساتھ ایسا عشق اور والہیت بھر گئے کہ احمدیت نقش۔ہی ان کا اوڑھنا بچھونا بن کر رہ گئی اور اس سے کو ہی زندگی کا سب سے بڑا مطمح نظر ہو کر رہ گیا۔اس پر چند سال بعد حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کی صحبت با برکت کا فقر آفریں تاثر و مجھے یاد نہیں کہ زندگی میں ان سے کسی شخص نے کسی موضوع پر کوئی بات کی ہو اور آپ نے تیسرے یا چوتھے فقرے ہی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت خلیفہ المسیح الاوّل یا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا ایمان افروز ذکر نہ چھیڑ دیا ہو اور یہ یقیناً اسی تڑپ کا انعام اور حاصل ہے کہ قصبہ زیرہ کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دریا کے کنارے پر واقعہ زیرہ، فیروز پور اور قصور کے درجنوں دیہات میں آپ کے ہاتھ سے احمدیت کی تخم ریزی کرائی اور وہاں مخلص جماعتیں قائم ہوئیں اور آپ کے دل میں حضرت مسیح موعود کے مقدس مشن کی اشاعت وتبلیغ کی لگن زندگی کا مقصد وحید بن کر جاگزیں ہوگئی۔سادہ انداز تبلیغ حضرت ابا جان کا انداز تبلیغ آپ کے مزاج اور لباس کی طرح نہایت سادہ پر سوز اور درد آفریں ہوتا تھا۔وہ ہر دوسرے تیسرے مہینے مختلف امراض کے لئے ادویہ کا ایک صندوقچہ بھر کر تبلیغی دورہ کے لئے نکل کھڑے ہوتے اور قریہ بہ قریۂ دیہہ بہ دیہہ پھر کر بیمار انسانیت کی خدمت بھی بجالاتے اور ساتھ کے ساتھ تشنہ روحانیت دنیا تک امام الزمان کے ظہور پُر نور کا مژدہ جاں فزا بھی پہنچاتے۔لوگوں کو قرآن کریم پڑھاتے۔اس کا ترجمہ وتفسیر ذہن نشین کراتے احادیث نبوی کا درس دیتے اور یوں آہستہ آہستہ غیر محسوس طور پر دلوں میں دین کی چنگاری بھی سلگاتے چلے جاتے۔تبلیغ کے لئے آپ کا انتخاب بھی عام طور پر