لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 313 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 313

313 کہ ۱۹۰۷ء کے جلسہ سالانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی کام کے لئے ساری جماعت کے سامنے ایک ہزار روپیہ چندہ کی تحریک فرمائی۔جس میں سے سات سو روپے والد محترم نے حضور کی خدمت میں پیش کئے اور تین سو روپے باقی احباب نے۔محترم میاں عبدالحمید صاحب کی اولاد کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں۔عبدالقیوم بشارت احمد عبدالرؤف، عبدالکریم مظفر احمد مجیدہ بیگم حمیدہ بیگم رشیدہ بیگم امتہ السلام صدیقہ بیگم امۃ القیوم مرحومہ۔محترم ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب ( غیر مبائع) ولادت : ۱۸۷۸ء بیعت : ۱۹۰۲ ء وفات : ۲۶۔اپریل ۱۹۳۹ء محترم ڈاکٹر سید محمدحسین شاہ صاحب کا وطن موضع کا لا پیچی تحصیل شکر گڑھ ضلع گورداسپور تھا۔آپ ۱۸۷۸ء میں موضع لکی مروت ضلع بنوں میں پیدا ہوئے جہاں آپ کے والد محترم خان بہادر سید عالم شاہ صاحب اسسٹنٹ سیٹلمنٹ آفیسر کے عہدہ پر کام کر رہے تھے۔ابتدائی تعلیم آپ نے سیالکوٹ میں حاصل کی۔بعدہ میڈیکل کالج لاہور سے ایل۔ایم۔ایس کا امتحان ۱۸۹۹ء میں پاس کیا۔غالباً ان شاء یا ۱۹۰۲ء میں جب کہ آپ پلیگ ڈیوٹی پر گورداسپور میں لگے ہوئے تھے۔آپ کو محترم سید امیر شاہ صاحب نائب تحصیلدار قادیان لے گئے۔اس وقت تو آپ نے صرف حضور کی زیارت ہی کی۔اور واپس آگئے۔مگر بعد میں اکیلے جا کر بیعت کر لی۔اس کے بعد آپ کو لاہور میں مستقل ملازمت مل گئی اور آپ کے محترم خواجہ کمال الدین صاحب، محترم ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور محترم شیخ رحمت اللہ صاحب وغیرہ احمدی احباب کے ساتھ تعلقات اخوت پیدا ہو گئے۔اور آپ نے ان کے ساتھ قادیان آنا جانا شروع کر دیا۔آپ نے سلسلہ کی مالی خدمات اور تبلیغ احمدیت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ہمدردی مخلوق کے ضمن میں ساملی سینی ٹوریم کا قیام آپ کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔۱۹۱۴ء میں جب جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے وغیرہ نے بیعت خلافت سے انحراف کیا اور لاہور میں انجمن اشاعت اسلام کی بنیاد رکھی تو محترم شاہ صاحب بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور