لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 312
312 ۱۹۔مجھے کئی مرتبہ حضور کومٹھی چاپی کرنے کا موقعہ ملا۔۲۰۔میں ایک دفعہ قادیان گیا۔حضور کا ایک کمرہ بن رہا تھا۔اس کی نگرانی کے لئے حضور نے مجھے مقرر کیا۔ایک مرتبہ دو پہر کے بعد حضور وہاں خود بھی تشریف لائے۔ان ایام میں حضور کوئی کتاب بھی تصنیف فرمارہے تھے۔غالباً براہین احمدیہ حصہ پنجم تھی۔حضور کے لکھنے کا طریق یہ تھا کہ صحن یا کمرہ کے دونوں طرف دوا تیں رکھی ہوتی تھیں اور ہاتھ میں کاغذ اور قلم لئے ہوتے تھے ایک طرف کی دوات سے روشنائی لے کر لکھتے لکھتے دوسری طرف چلے جاتے پھر ادھر سے روشنائی لے کر اس طرف چلے آتے۔اس اثنا میں ایک معمار نے حضور کو کہا کہ حضور فلاں مزدور نمازی نہیں۔فرمایا۔ہم نے اس سے نفل نہیں پڑھوانے۔۲۱۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے نکاح کے موقعہ پر حضور نے لاہور کے جن چند احباب کو ا بلایا۔ان میں میں بھی شامل تھا۔۲۲۔آپ کی اہلیہ صاحبہ رحمت بی بی بھی صحابیہ تھیں۔ان کی ولادت ۱۸۷۵ء میں ہوئی۔بیعت کرنے کا شرف ۱۹۰۴ء میں حاصل ہوا۔اور وفات ۱۷۔مارچ ۱۹۵۸ء کو ہوئی۔۸۲ سال کی عمر پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئیں۔فانالله وانا اليه راجعون۔اولاد : میاں محمد حسین صاحب، میاں عبدالمجید صاحب، میاں عبد الماجد صاحب، میاں محمد احمد صاحب میاں محمد یحیی صاحب، میاں مبارک احمد صاحب مریم بی بی صاحبہ زوجہ عبد الخالق صاحب عائشہ بی بی صاحبہ مرحومه زینب بی بی صاحبہ زوجہ عبد العزیز صاحب۔نوٹ : اوّل الذکر دونوں اصحاب صحابی ہیں۔میاں محمد حسین صاحب کی پیدائش دسمبر ۱۸۹۴ ء میں ہوئی اور بیعت انہوں نے ۱۹۰۵ء میں قادیان جا کر کی۔ان کی اولاد کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں۔محمد عبد الله محمد عبد القادر محمد اور میں امتہ الرحیم، ناصر بتول۔میاں عبدالمجید صاحب کی پیدائش جنوری ۱۹۰۱ء میں ہوئی اور بیعت انہوں نے ۱۹۰۶ ء یا ۱۹۰۷ء میں قادیان جا کر کی۔انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ صاحب کے متعلق ایک روایت یہ بیان کی