لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 311 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 311

311 دن جمعہ کے وقت انہوں نے کہا کہ اب آپ چاہے روکیں میں بیعت ضرور کروں گا۔چنانچہ نماز جمعہ کے بعد انہوں نے بیعت کر لی۔۱۴۔میاں فیروز الدین صاحب جو میاں محمد سلطان صاحب کے متبنی تھے (میاں محمد سلطان صاحب نے لاہور کا اسٹیشن بنایا تھا اور گورنمنٹ کو کئی لاکھ روپیہ کا بل چھوڑ دیا تھا ) کو گھٹنوں کی درد کی بہت شکایت تھی۔دو آدمی پکڑ کر ان کو اٹھایا کرتے تھے۔مگر حضرت صاحب سے ان کو بہت محبت تھی اور وہ حضور کے پاس روزانہ آیا کرتے تھے۔ان ایام میں امریکہ کے ایک صاحب اور میم یہاں پر آئے۔اور ان سے حضور نے گفتگو فرمائی۔اس موقعہ پر میاں فیروز الدین بھی وہیں بیٹھے تھے۔حضور نے ان کو فرمایا کہ میاں فیروزالدین کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے عرض کی کہ حضور درد بہت ہے۔آپ نے فرمایا۔اٹھو! اٹھو! ! انہوں نے کہا کہ حضور کہاں اٹھ سکتا ہوں۔لیکن حضور نے بڑی تیزی سے فرمایا کہ اٹھو۔اٹھو! جس پر وہ خود بخو داٹھ کر کھڑے ہو گئے۔اور ان کی درد بالکل زائل ہوگئی۔اس کے بعد گھٹنوں کی دردان کو مرتے دم تک نہیں ہوئی۔چار پانچ سال وہ اس کے بعد زندہ رہے۔۱۵۔حضرت مسیح موعود نے آخری ایام میں ایک اشتہار شائع فرمایا جس پر ایک لکڑی کی مہر أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کھدوا کر اشتہار پر لگوائی تھی۔وہ مہراب تک میرے پاس موجود ہے۔۱۶۔میں نے ایک دفعہ حضور کی خدمت میں یہ درخواست کی تھی۔چونکہ جماعت کو مال کی بڑی ضرورت ہے۔کیا قربانی کی بجائے روپے نہ قادیان بھجوا دیے جائیں؟ فرمایا۔نہیں۔شعائر اللہ کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔۱۷۔ایک دفعہ میں قادیان گیا۔بستر ہمراہ نہ لے گیا تھا۔حضور کے خادم حافظ حامد علی صاحب نے حضور کو اطلاع دی کہ لاہور کے ایک صحابی محمد موسیٰ کے پاس بستر نہیں ہے۔اس پر حضور نے اپنی رضائی مجھے بھیج دی۔چنانچہ اس رات میں حضور کی رضائی اوڑھ کر سویا۔۱۸۔ایک دفعہ مولوی کرم الدین صاحب مرحوم جو کہ بھڑ یار متصل اٹاری کے رہنے والے تھے۔انہوں نے مچھلی پکڑ کر دی کہ یہ حضرت صاحب کی خدمت میں لے جاؤ۔چنانچہ میں وہ مچھلی حضور کی خدمت میں لے کر گیا۔حضور بہت خوش ہوئے۔