لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 175
175 میں کس طرح خدمت دین کر سکتا ہوں۔ابھی آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا ہی تھا کہ حضور نے فرمایا۔دیکھو! آنحضرت یہ بھی پڑھے ہوئے نہیں تھے۔مگر اللہ تعالیٰ نے کتنا بڑا کام لیا۔اس پر والد صاحب نے پنشن لے لی اور بڑی دیر تک قادیان میں محاسب کا کام کرتے رہے۔رہتے لاہور ہی میں تھے مگر ہفتہ میں ایک دفعہ قادیان میں ضرور جایا کرتے تھے۔میاں مغل صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے والد صاحب الہی بخش اکونٹنٹ، منشی عبدالحق صاحب اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو حضور نے بشیر اوّل کے عقیقہ پر بھی بلایا تھا۔والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ راستہ میں اس قدر بارش ہوئی تھی کہ بٹالہ تک پانی ہی پانی نظر آتا تھا اور بہت سے آدمی سردی کی وجہ سے بیمار ہو گئے تھے۔نیز فرمایا کرتے تھے کہ جب کبھی اہلسنت والجماعت کا کوئی شخص تمسخر کے طور پر یہ کہتا کہ اہلحدیث میں کوئی ولی اللہ نہیں تو اکثر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پیش کیا کرتے تھے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے شروع ہی سے اخلاص ومحبت کے تعلقات رکھتے تھے۔بیعت میں توقف کی یہ وجہ بیان کی جاتی ہے کہ آپ نے پہلے سید محمد صدیق صاحب کی بیعت کی ہوئی تھی۔جب آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کے لئے تیار ہوئے تو سید صاحب موصوف نے انہیں کہا کہ آپ نے تو میری بیعت کی ہوئی ہے آپ دوسرا مرشد کیسے پکڑ سکتے ہیں؟ اس پر حضرت میاں معراج دین صاحب عمر نے کہا کہ میں نے تو کسی کی بیعت نہیں کی اس لئے میں حضرت صاحب کی بیعت کرتا ہوں چنانچہ انہوں نے بیعت کر لی۔پھر مغل صاحب اور حکیم مرہم عیسی صاحب نے یکے بعد دیگرے بیعت کر لی۔اس پر حضرت میاں چراغ دین صاحب نے حضرت صاحب سے پوچھا کہ حضور! میں نے سید محمد صدیق صاحب کی بیعت کی ہوئی ہے۔کیا میں بھی حضور کی بیعت کر سکتا ہوں؟ حضور نے فرمایا۔اب سب بیعتیں منسوخ ہو چکی ہیں۔بجز میری بیعت کے اب کوئی بیعت درست نہیں۔اس پر میاں چراغ دین صاحب نے بھی بیعت کر لی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت میاں چراغ دین صاحب سے بہت محبت تھی۔حضور فرمایا کرتے تھے کہ میرے بچپن کے رفیقوں میں سے خدا تعالیٰ نے مجھے صرف میاں چراغ دین دیا ہے۔باقی مجھ سے دور ہو گئے۔آپ کی ایک روایت الفضل میں یوں درج ہے کہ :