لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 176 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 176

176 ایک دفعہ میں قادیان گیا۔دو چار دن کے بعد جب میں جانے لگا تو خیال آیا کہ اگر آج نہ جاؤں تو کل دفتر میں دس کی بجائے بارہ بجے حاضر ہو جاؤں گا اور صبح چھ بجے یہاں جب سے چل پڑوں گا اس طرح آج کی رات اور فیض صحبت سے مستفیض ہونے کا موقعہ مل جائے گا۔یہ خیال کر کے میں ٹھہر گیا۔صبح 4 بجے جب حضور سیر کو نکلے تو میں نے جانے کے لئے اجازت چاہی آپ نے دعا فرمائی اور اجازت دے دی۔جب میں چلنے لگا تو فرمایا منشی صاحب! ابھی وقت ہے۔آؤ سیر کو چلیں۔میں حضور کے ساتھ ہولیا۔اڑھائی گھنٹہ کے بعد حضور سیر سے واپس آئے تو مجھ سے مصافحہ کیا اور فرمایا۔جاؤ اجازت ہے۔میں نے کچھ نہ کہا اور چپکا ہو کر چل پڑا۔یکہ کرایہ کیا اور گیارہ بجے بٹالہ کے اسٹیشن پر پہنچا۔میرے وہاں پہنچنے پر گھنٹی بجی۔تو میں نے پوچھا کہ کدھر جانے والی گاڑی کی گھنٹی بجی ہے۔لوگوں نے کہا لا ہور جانے والی گاڑی۔آج گاڑی دو گھنٹہ لیٹ ہو کر آئی ہے۔میں نے ٹکٹ لیا اور اس میں سوار ہو کر با رام لاہور پہنچ گیا ، ۱۳ محترم میاں نذیر حسین صاحب ابن حضرت حکیم مرہم عیسی صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت میاں چراغ دین صاحب کے ہاں پہلا بچہ یعنی ہمارے والد صاحب حضرت حکیم مرہم عیسی صاحب پیدا ہوئے تو آپ پانچ سال کی عمر تک نہ بولنا سکھے نہ چلنا۔اس پر ایک روز جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لا ہور تشریف لائے ہوئے تھے۔ہمارے دادا محترم نے حضرت صاحب سے عرض کی کہ حضور! میرا صرف ایک ہی لڑکا ہے اور وہ بھی گونگا اور لنجا ہے۔حضور دعا فرماویں کہ وہ تندرست ہو جائے۔حضور نے فرمایا۔میاں صاحب۔اس بچے کو لے آئیں۔چنانچہ حضور نے محترم حکیم صاحب کو اپنی گود میں لے کر ایک لمبی دعا کی۔اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ چاہے گا تو یہ بچہ درست ہو جائے گا۔چنانچہ جب حضور دوبارہ لاہور تشریف لائے تو حضرت میاں چراغ دین صاحب سے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے ہماری دعا قبول فرمالی ہے۔آپ کا یہ بچہ بڑا بولنے والا اور چلنے والا ہوگا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہم نے حضرت حکیم صاحب کو اسی نوے کی سال کی عمر میں بھی اس قدر اونچا اور مسلسل بولتے دیکھا ہے کہ ہم حیران رہ جاتے تھے۔محترم ماسٹر نذیرحسین صاحب ہی کا بیان ہے کہ ہمارے والد صاحب کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد