لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 174
174 محبت کرتے اور بڑے خلوص سے ملتے۔مرحوم ایک خوبصورت بشرے اور گوری رنگت کے آدمی تھے۔آپ کا چہرہ متبسم اور آنکھیں محبت سے پر تھیں۔آپ خدا کے فضل سے کثیر العیال تھے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کے پانچ لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں۔جن میں سے دولڑ کیاں فوت ہو گئی تھیں۔ان کے سوا آپ کے لڑکے لڑکیوں اور نواسے نواسیوں اور ان کی اولاد کی مجموعی تعداد ما شاء اللہ پچاس ہے۔بجز حکیم محمدحسین صاحب مرہم عیسی * کے آپ کا تمام خاندان مبائعین سید نا حضرت خلیفتہ امیج میں شامل ہے۔اللہ تعالیٰ اس خاندان کو بڑھائے اور دنیا و دین میں عزت دے۔مرحوم کی وفات سے ایک ہفتہ قبل آپ کی اہلیہ مکرمہ فوت ہوگئی تھیں ان کی وفات کا آپ کو بڑا صدمہ ہوا۔اس کے بعد علیل ہو گئے۔علالت میں ہی آپ کو حضرت مفتی صاحب کے امریکہ میں داخل ہونے کی خبر ملی۔آپ بہت خوش ہوئے اور بار بار الحمد للہ الحمد للہ کہنے لگے۔۷۱۶ امئی ۱۹۲۰ء کی درمیانی شب کو اپنے مکان مبارک منزل لاہور میں تحلیل گردہ کے مرض میں انتقال ہوا اور ۱۷ مئی کو بذریعہ موٹر آپ کا جنازہ لاہور سے دارالامان میں لایا گیا۔اگر چہ بہشتی مقبرہ میں قبر تیار تھی۔مگر اعزا مرحوم نے سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے درخواست کی کہ وہ مرحوم کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب بجانب مغرب جو زمین ہے اس میں جگہ دی جائے۔آپ نے منظور فرمایا مگر قبر کھدی ہوئی نہیں تھی۔دوسرے دن صبح کے وقت قبر تیار ہو گئی۔حضرت امام نے مدرسہ احمدیہ میں دیر تک اثنائے جنازہ مرحوم کے لئے دعا فرمائی اور حضرت منشی اروڑے خاں مرحوم کی قبر کے ساتھ ہی بجانب مغرب آپ کو دفن کر دیا گیا۔سبحان الله۔۔منهم من قضى نحبه و منهم من ينتظر۔اللهم اغفر له وارحمه وادخله في الجنة - - حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغل فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ سیر میں میرے والد حضرت میاں چراغ دین صاحب کو حضور نے فرمایا کہ میاں صاحب! اب آپ پنشن لے لیں اور کوئی دین کا کام کریں۔اس پر والد صاحب نے دل میں خیال کیا کہ میں اردو تو لکھ نہیں سکتا، انگریزی لکھ سکتا ہوں نوٹ از مؤلف ) یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ حضرت حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی نے بھی بعد ازاں حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کی بیعت کر لی تھی اور وفات تک اس پر قائم رہے۔فالحمد للہ علی ذالک۔