لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 93
93 لئے منظور کیا ہوا تھا جو اپنے سکول میں اول رہے لیکن ہیڈ ماسٹر کی سفارش اس کے لئے ضروری تھی جس سے انہوں نے بالکل انکار کیا۔اس مجبوری کی وجہ سے میں کالج میں داخل نہ ہو سکا۔انہیں ایام میں میں نے ایک خواب دیکھا جو ۲۷۔دسمبر ۱۸۹۱ء کو پورا ہوا۔میں نے دیکھا۔کہ ایک پیر مرد نورانی صورت میرے سامنے آیا۔اس کا حلیہ تمام و کمال میرے دل پر نقش ہونے کے بعد وہ غائب ہو گیا اور میں بیدار ہو گیا۔۱۳۔جون ۱۸۸۶ء کا واقعہ ہے پنڈت لیکھرام پشاوری نے ایک اشتہار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس اشتہار کی مخالفت میں شائع کیا۔جس میں آنجناب نے ایک بشیر لڑکے کی پیدائش کے متعلق پیشگوئی کی تھی۔اس اشتہار میں پنڈت صاحب نے اپنی فطرت کے مطابق دشنام دہی اور سب وشتم سے کام لیا۔اتفاقاً وہ اشتہار میری نظر سے بھی گذرا۔میں نے استفسار کے طور پر حضرت صاحب کی خدمت میں ایک کارڈ لکھا۔لیکن باعث عدم علم ایسے طرز سے لکھا گیا کہ حضور نے مجھے معاندین میں سے تصور کیا۔الاعمال بالنیات۔خیر یه گذاری کہ حضرت صاحب نے چند مخلص دوستوں سے بذریعہ خط و کتابت خاکسار کے متعلق دریافت فرمایا جنہوں نے از راہ کرم حضور کی تسلی کی اور لکھا کہ یہ شخص ہمیشہ سے آپ کا مداح رہا ہے۔اس کے بعد آپ نے ایک اشتہار شائع کیا۔جس کے عنوان میں یہ شعر درج تھا کہ ہم نے الفت میں تیری بار اٹھایا کیا کیا تجھ کو دکھلا کے فلک نے ہے دکھایا کیا کیا ” اس اشتہار کے پڑھنے اور براہین احمدیہ کے بار بار کے مطالعہ سے میرے دل میں ایک امنگ پیدا ہوئی کہ میں خود قادیان جا کر حضرت صاحب سے ملاقات کروں کیونکہ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کا دیدار فیض آثار گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔اس نیت سے اکتوبر ۱۸۸۶ء کو میں پہلی دفعہ حاضر خدمت ہوا اور مغرب کی نماز میں نے مسجد مبارک میں حضرت اقدس کی اقتداء میں پڑھی۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ وہیں بیٹھ گئے اور بطور نصیحت مختصر الفاظ میں تقریر فرمائی ہے اپریل ۱۸۸۹ء سے اپریل ۱۸۹۲ء تک خاکسار انجمن حمایت اسلام کا مہتم کتب خانہ رہا اور حضور کا ایک مضمون ایک عیسائی کے تین سوالوں کا جواب“ میرے ہی اہتمام سے چھاپا