لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 94
94 گیا۔ایک دن حسب معمول میں انجمن کے کتب خانہ میں گیا۔ان دنوں رسالہ فتح اسلام چھپ چکا تھا اس کی ایک کاپی انجمن کے دفتر میں بھی پہنچی۔بہت سے مولوی صاحبان جن میں اکثر اہلحدیث تھے اس کو پڑھتے اور نہایت تعجب سے کہتے کہ جو کچھ مرزا صاحب نے لکھا ہے اس کو کوئی بھی نہیں مانے گا۔مگر یہ رسالہ لا جواب ہے۔اس کا بھی کوئی جواب نہیں۔اس کے بعد رسالہ توضیح مرام بھی میری نظر سے گذرا۔ان دونوں رسالوں کے شائع ہونے کے بعد ہندوستان میں ایک سخت طوفان بے تمیزی برپا ہوا۔اور ہر طرف سے مولوی صاحبان نے کفر کے فتوے تیار کئے۔یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قادیان میں ایک جلسہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔مجھے بھی ایک کارڈ پہنچا لیکن بعض ضروری خانگی امورات کی وجہ سے میں نے حاضر خدمت ہونے سے انکار کر دیا۔لیکن اسی ہفتہ میں پھر دوبارہ کارڈ پہنچا۔جس کے الفاظ تھے۔دسمبر کی تعطیلات پر آپ ضرور قادیان تشریف لاویں اور خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو اپنے جذب خاص سے اپنی طرف کھینچ لے۔ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر میں نے اس خط کو پڑھا اور مجھ پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ میں نے تمام خانگی امورات کو جن کی بنا پر قادیان آنے سے معذرت کی تھی۔خیر باد کہی اور مصمم ارادہ کیا کہ قادیان جانا ضروری ہے۔الغرض ۲۷ دسمبر ۱۸۹ء کے جلسے پر جس میں حاضرین کی تعداد اسی کے قریب تھی میں بھی حاضر خدمت ہوا۔اور دن کے دس بجے کے قریب چائے پینے کے بعد ارشاد ہوا کہ سب دوست بڑی مسجد میں جواب مسجد اقصیٰ کے نام سے مشہور ہے، تشریف لے جائیں۔حسب الحکم سب کے ساتھ میں بھی حاضر ہوا۔زہے قسمت کے میرے لئے قسام ازل نے اس برگزیدہ بندہ کی جماعت میں داخل ہونے کے لئے یہی دن مقرر کر رکھا تھا۔اس وقت مسجد اتنی وسیع نہ تھی جیسی آج نظر آتی ہے۔سب کے بعد حضرت صاحب خود تشریف لائے اور مولوی عبدالکریم صاحب ” فیصلہ آسمانی سنانے کیلئے مقرر ہوئے۔لیکن میرے لئے ایک حیرت کا مقام تھا کیونکہ جب میں نے حضرت اقدس کے روئے مبارک اور لباس کی طرف دیکھا تو وہی حلیہ تھا اور وہی لباس زیب تن تھا جس کو ایام طالب علمی میں میں نے دیکھا تھا۔