لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 92
92 حضرت صوفی نبی بخش صاحب لاہوری ولادت: انداز ۱۸۶۳۱ء بیعت : ۲۷۔دسمبر ۱۸۹۱ء وفات: ۱۹۴۴ء (۲۱ رمضان المبارک) آپ تحریر فرماتے ہیں: اپریل ۱۸۸۱ء میں خاکسار نے راولپنڈی مشن سکول سے مڈل پاس کیا۔فضل ربانی نے میری تائید کی۔انٹرنس کلاس میں داخل ہونے کے اسباب مہیا کر دیے۔فقط ایک وظیفه مبلغ چار روپے کا انٹرنس کلاس کے لئے منظور شدہ تھا۔اور اگر چہ میرا نمبر نتیجہ کے لحاظ سے تیسرا تھا لیکن وہ وظیفہ مجھے ہی دیا گیا۔اس کی وجہ یہ ہوئی کہ جو طالب علم اول نمبر پر تھا۔اس نے وظیفہ لینے سے انکار کر دیا۔اور دوسرا ایک سال پہلے فیل ہو چکا تھا۔لا جرم اس وظیفہ کے پانے کا میں ہی مستحق گردانا گیا۔اور والد صاحب مرحوم کی ذمہ داری پر یہ وظیفہ مجھے دیا گیا۔شرط یہ ٹھہرائی گئی کہ نہ تو آپ کے لڑکے کو اس مدرسہ کو چھوڑ کر کسی اور مدرسہ میں داخل ہونے کی اجازت ہے اور نہ ہی تعلیم کو ادھورا چھوڑ نا ہوگا۔بصورت وعدہ شکنی تمام روپیہ واپس کرنا پڑے گا۔والد صاحب مرحوم نے اس پر اپنی رضا مندی ظاہر کی اور ایک اقرار نامہ پر ان سے دستخط لئے گئے۔سکول کا ہیڈ ماسٹر ایک بنگالی مگر سخت متعصب عیسائی جو دین عیسوی کا فدائی اور جانثار تھا، بڑے ذوق سے بائیبل پڑھا تا۔کبھی کبھی اسلام پر اعتراض بھی کرتا۔لیکن وہ اسی رنگ میں ہوا کرتے جو اکثر پادری بغیر سمجھ کے قرآن شریف پر کیا کرتے ہیں۔اگر چہ میں اس کوچے سے بالکل نابلد تھا لیکن مسلمان ہونے کی حیثیت سے کبھی کبھی غیرت بھی آجاتی اور بے خوف و خطر اس کا مقابلہ کرتا۔اور اس بات کا کبھی خیال بھی نہ آتا کہ ایک طالب علم وظیفہ خوار کے لئے اس کا انجام کیا ہو گا۔ہیڈ ماسٹر صاحب بھی متانت سے سنتے اور برداشت کرتے لیکن دل میں کینہ رکھتے۔کوئی رنجش ان کے چہرہ سے عیاں نہ ہوتی۔ان سب باتوں کا نتیجہ انٹرنس پاس کرنے کے بعد اس رنگ میں انہوں نے ظاہر کیا کہ میں کالج میں تعلیم پانے سے روکا گیا۔راولپنڈی میونسپل کمیٹی نے ایک وظیفہ مبلغ کا اس لڑکے کے