لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 67 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 67

67 نے اس کے لئے چند تجاویز بھی پیش فرمائی تھیں لیکن ابھی مضمون کے سنائے جانے کا موقع نہیں آیا تھا کہ حضور کا وصال ہو گیا۔فانا لله و انا اليه راجعون۔حضور کے وصال کے بعد یہ لیکچر ۲۱۔جون ۱۹۰۸ء کو اتوار کے روز سات بجے صبح یونیورسٹی ہال میں ایک بڑے مجمع کے سامنے جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے سنایا۔اس جلسہ کے صدر لاہور چیف کورٹ کے جسٹس سر پر تول چندر چیٹر جی تھے۔ہال سامعین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔بلکہ باہر بھی کثرت سے لوگ کھڑے تھے۔اس لیکچر میں بیان فرمودہ تجاویز کولوگوں نے بہت پسند کیا اور اسی وقت لوگوں نے دستخط کرنے پر آمادگی کا بھی اظہار کیا لیکن اس خیال سے کہ یہ ارادہ مضمون کے فوری اثر کی وجہ سے نہ ہو دستخط کیا جانا دوسرے وقت پر ملتوی کیا گیا۔مگر پھر ان دستخطوں کی نوبت نہیں آئی اور سنا گیا کہ آریہ صاحبان نے ان تجاویز کو اپنے مقصد کے خلاف سمجھ کر دستخط کرنے پسند نہیں کئے۔لیکن ہمیں یقین ہے کہ اس وقت صلح کے شہزادہ نے ہندو و مسلم اتحاد کے لئے جو تجاویز پیش کی تھیں کسی نہ کسی وقت ضرور ان سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔حضور کا یہ مضمون جو پیغام صلح کی صورت میں شائع شدہ موجود ہے قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے۔چنانچہ اس وقت سے لے کر اب تک جن لوگوں نے اس کا مطالعہ کیا ہے وہ اس سے از حد متاثر ہوئے ہیں۔ذیل میں چند آراء درج کی جاتی ہیں :۔وو ا۔مدراس کے مشہور ہند و اخبار ہندو پیٹریٹ (Hindu Patriot) نے لکھا: ” وہ عظیم الشان طاقت اور اعلیٰ درجہ کی ہمدردی جو قادیان کے بزرگ کے اس آخری پیغام صلح سے ظاہر ہوتی ہے وہ یقیناً ایک خاص امتیاز کے ساتھ اسے ایک عظیم الشان انسان ثابت کرتی ہے۔ایسی اپیل ایسے عظیم الشان انسان کی طرف سے یونہی ضائع نہیں جانی چاہئے اور ہر ایک محب وطن ہندوستانی کا مدعا ہونا چاہئے کہ وہ مجوزہ صلح کو عملی رنگ پہنانے کی کوشش کرئے“۔۴۶ و, مشہور انگریزی رسالہ ریویو آف ریویوز نے اس مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: یہ پیغام ایک سنہری پل کا کام دے سکتا ہے جس پر سوار ہو کر مسلمانان ہند قانون اساسی کے خیمہ میں پہنچ سکتے ہیں۔پیغام صلح شروع میں ہی تمام ہندوستانیوں کے ایک ہونے