لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 66 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 66

66 اس جلسہ میں میں نے صرف یہ تقریر کی تھی کہ میں ہمیشہ اپنی تالیفات کے ذریعہ سے لوگوں کو اطلاع دیتا رہا ہوں اور اب بھی ظاہر کرتا ہوں کہ یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا جس کے یہ معنی ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ اور علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعت اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں اور آنحضرت ﷺ کی اقتداء اور متابعت سے باہر جاتا ہوں۔یہ الزام صحیح نہیں ہے بلکہ ایسا دعویٰ نبوت کا میرے نزدیک کفر ہے اور نہ آج سے بلکہ ہر ایک کتاب میں ہمیشہ میں یہی لکھتا آیا ہوں کہ اس قسم کی نبوت کا مجھے کوئی دعویٰ نہیں اور یہ سراسر میرے پر تہمت ہے اور جس بنا پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو۔دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور انہی امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نبی نام رکھتا ہے تو میں کیونکر اس سے انکار کر سکتا ہوں۔میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گذر جاؤں۔۳۵ ایک پبلک لیکچر کی تجویز اور ”پیغام صلح کی تصنیف دعوت طعام کے موقعہ پر جو لیکچر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے دیا تھا وہ چونکہ ایک محدود طبقہ میں دیا گیا تھا اس لئے بعض معززین نے یہ تجویز پیش کی کہ حضور ایک پبلک لیکچر بھی دیں جس میں کثرت سے لوگ شامل ہو کر فائدہ اٹھا ئیں۔حضور نے یہ تجویز منظور فرمالی اور اس کے لئے ایک مضمون لکھنا شروع فرما دیا۔مضمون کا عنوان تھا ”پیغام صلح، حضور چاہتے تھے کہ اس پیغام کے ذریعہ سے ہندوستان کی دومشہور قوموں یعنی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی طور پر صلح ہو جائے اور حضور