لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 68 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 68

68 کو تسلیم کرتا ہے۔وہ بات جس سے اس کی خواہش کی سچائی ثابت ہوتی ہے ( یہ ہے ) که تمام نبیوں کو خدا کی طرف سے مان کر مذہبی اتفاق اور اتحاد کی بنیاد رکھی جائے۔اس پیغمبر صلح کی یہ نرالی تجویز ہے“۔"۔ایک غیر مسلم دوست پی۔بی سنگھ لکھتے ہیں : کتاب ”پیغام صلح نے مجھ پر حیرت انگیز اثر کیا ہے۔میں اسلام کو اچھا مذہب خیال نہیں کرتا تھا۔اسلام کے متعلق مسلمانوں کا جو تھوڑا بہت لٹریچر میں نے مطالعہ کیا ہے اس سے مجھ پر یہی اثر ہوا تھا کہ اسلام جارحانہ مذہب ہے۔میں اسے کبھی رواداری کا مذہب نہیں سمجھتا تھا جیسا کہ اب سمجھتا ہوں“۔۲۸ ۴۔مسٹر برہم دت ڈیرہ دون نے لکھا: چالیس برس پیشتر یعنی اس وقت جب کہ مہاتما گاندھی ابھی ہندوستان کے افق سیاست پر نمودار نہیں ہوئے تھے ( حضرت ) مرزا غلام احمد (علیہ السلام) نے ۱۸۹۱ء میں دعومی مسیحیت فرما کر اپنی تجاویز رسالہ ”پیغام صلح کی شکل میں ظاہر فرمائیں جن پر عمل کرنے سے ملک کی مختلف قوموں کے درمیان اتحاد واتفاق اور محبت و مفاہمت پیدا ہوتی ہے۔آپ کی یہ شدید خواہش تھی کہ لوگوں میں رواداری اخوت اور محبت کی روح پیدا ہو۔بیشک آپ کی شخصیت لائق تحسین اور قابل قدر ہے کہ آپ کی نگاہ نے مستقبل بعید کثیف پردے میں سے دیکھا اور (صحیح) راستہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔۴۹ مرض الموت ہوا۔حضرت اقدس اپنے لیکچر ”پیغام صلح کی تصنیف میں مصروف رہے کہ ۲۰/ مئی ۱۹۰۸ء کو یہ الہام الرحيل ثم الرحيل والموت قريب ۵۰ د یعنی کوچ کا وقت آ گیا ہے ہاں کوچ کا وقت آ گیا ہے اور موت قریب ہے۔یہ الہام صراحت کے ساتھ حضور کی وفات کے بالکل قریب ہونے پر دلالت کرتا تھا۔اس لئے