لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 622
622 حلقوں کی عاملہ اور مرکزی عاملہ میں کام کرنے والے کارکنوں کا اس دور میں جائزہ لیا جائے تو 50% کے قریب نئے کارکن نظر آئیں گے۔لاہور میں تشریف آوری سے قبل محترم پاشا صاحب حیدر آباد اور خیر پور ڈویژن میں علاقائی قائد بھی رہے ہیں۔مجلس خدام الاحمدیہ کے ریکارڈ سے نومبر ۱۹۶۱ء تا جون ۱۹۶۲ء کی ایک رپورٹ ملی ہے۔جو درج ذیل ہے:۔نومبر ۱۹۶۱ء تا جون ۱۹۶۲ء سات ماہانہ تربیتی اجلاس عام ہوئے۔مندرجہ ذیل بزرگوں نے خدام سے خطاب فرمایا : ا۔ڈاکٹر کرنل عطا اللہ صاحب قریشی محمود احمد صاحب ایڈووکیٹ۔ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے ۴۔سید حضرت اللہ پاشا صاحب مکرم چوہدری اسد اللہ خاں صاحب ۶۔چوہدری شبیر احمد صاحب وکیل المال ۲۲۳ چٹھیاں موصول ہوئی۔آٹھ سرکلر جاری ہوئے۔۱۹۲ خطوط لکھے گئے۔تجنید : پچھلے سال ۳۴۴ خدام تجنید میں شامل تھے جب کہ اس سال انکی تعدا د۴۵۳ ہے۔اشاعت : خالد کے خریدار۷۳ ( یہ تعداد تمام مجالس سے بڑھ کر ہے ) تفخیذ کے خریدار ۵۲ ( یہ تعداد تمام مجالس سے بڑھ کر ہے ) لائبریریاں : حلقہ جات کی مختلف لائبریریوں سے ۶۹۰۰ احباب نے استفادہ کیا۔۳۷۲ خدام نے مختلف کتب کا مطالعہ کیا۔۱۱۷ کتب کا اضافہ ہوا۔تربیت و اصلاح: حلقہ جات میں ۱۲۱ تربیتی اجلاس ہوئے ۱۰۰ خدام با قاعدہ ذکر الہی کرتے ہیں۔مرکزی تربیتی کلاس میں لاہور کے ۱۳ خدام شریک ہوئے۔حاضری کے لحاظ سے ربوہ کے بعد لا ہور کا دوسرا نمبر تھا۔