لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 623
623 اصلاح وارشاد: ۵۸۱ افراد زیر تربیت رہے۔۵۰۰۰ کی تعداد میں لٹریچر بذریعہ ڈاک روانہ کیا گیا۔۹۳۰۰ کی تعداد میں لٹریچر تقسیم کیا گیا۔۶ افراد نے بیعت کی۔لاہور کے گرجوں میں خدام کے وفود تبلیغ کے لئے جاتے رہے۔وائی۔ایم ہی۔اے ہال میں ایک عظیم الشان جلسہ ہوا۔۱۰۰۰ کے لگ بھگ حاضری تھی۔۲۰۰ کے قریب غیر از جماعت احباب شامل ہوئے۔شعبہ مال : بجٹ ۶۶۶۰ روپے ہے۔مختلف مرکزی مدات میں ۵۹ - ۳۰۱۵ روپے چندہ بھجوایا گیا۔مجلس ۵۹-۱۶۰۴۳۔اجتماع ۰۰-۳۷۲- تعمیر دفتر ۰۰-۱۰۰۰ وقار عمل : ۴۱ وقار عمل ہوئے۔۲۵۱ گھنٹے صرف کئے گئے۔خدمت خلق : ۱۷ خدام نے خون کا عطیہ دیا۔۴۲۴ مریضوں کی عیادت کی گئی۔۱۵۶ شیکے لگائے گئے۔۵۶ افراد کے لئے ذریعہ معاش میں مدد دی گئی۔شیخ ریاض محمود صاحب نومبر ۱۹۷۳ تا۔۔۔۔۔نو جوانوں کی تنظیم کے مسائل حل کرنے کے لئے اولوالعزمی اور خلوص کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔وقت کی قربانی بھی کرنا پڑتی ہے۔مومنانہ فراست، کشادہ دلی اور بلند نظر کا جو ہر بھی چاہئے۔محترم شیخ ریاض محمود صاحب اس اسلحہ سے لیس نظر آتے ہیں۔محترم شیخ صاحب کو حضرت صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب صدر مجلس مرکزیہ کی رافت وشفقت سے بھی وافر حصہ میسر ہے۔قائد صاحب مؤثر رنگ میں اپنے مافی الضمیر کو ادا کرنے کا ملکہ رکھتے ہیں۔نظام سلسلہ پرسختی سے عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے رفقائے کار میں ہر دلعزیز بھی ہیں۔اس دور میں بعض ایسے خدام جنہیں کچھ عرصہ قبل انتظامی صلاحیتوں سے محروم سمجھا جاتا تھا اب ذمہ دار عہدوں پر خلوص اور کامیابی سے کام کرتے نظر آتے ہیں۔مجالس ہائے عاملہ و عامہ با قاعدگی سے ہوتی ہیں۔اجلاس عامہ میں سلسلہ کے بزرگوں سے تقاریر کروائی جاتی ہیں۔مرکز میں کار کردگی رپورٹیں بر وقت پہنچائی جاتی ہیں۔ہنگامی حالات میں خدام کی مساعی اپنوں اور غیروں کے لئے قابل رشک نمونہ ہے۔اس قیادت کی بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے لا ہور میں تعلیم القرآن کلاس کا اہتمام مجلس خدام الاحمدیہ لاہور کے سپر د کیا ہے۔اور مجلس اس مقدس فریضہ کو