لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 537 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 537

537 میں برا بر تشریف لے جاتے رہے۔باؤنڈری کمیشن میں اپنا کیس پیش کرنے کے لئے مسلم لیگ نے اپنے نمائندہ آنریبل سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو مقرر کیا۔حضور نے زرکثیر صرف کر کے سکول آف اکنامکس کے پروفیسر سپیٹ (Spate) کو جو باؤنڈری ایکسپرٹ تھے لاہور بلایا ہوا تھا۔مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت پہلے ہی یہ فیصلہ کر چکی تھی کی کشمیر کا علاقہ بہر حال ہندوستان کے حوالہ کرنا ہے اور چونکہ ضلع گورداسپور کے ایک بڑے حصہ کے دیئے بغیر یہ کام ہو نہیں سکتا اتھا اس لئے Other Factor کی آڑ میں گورداسپور کی تین تحصیلوں کو بھی ہندوستان میں شامل کر دیا گیا۔آنریبل چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے کس قابلیت کے ساتھ کیس لڑا؟ اس کا ذکر کرتے ہوئے ” نوائے وقت لاہور نے لکھا: حد بندی کمیشن کا اجلاس ختم ہوا۔۔۔۔۔چار دن چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے مسلمانوں کی طرف سے نہایت مدلل، نہایت فاضلانہ اور نہایت معقول بحث کی۔کامیابی بخشنا خدا کے ہاتھ میں ہے مگر جس خوبی اور قابلیت کے ساتھ سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے مسلمانوں کا کیس پیش کیا اس سے مسلمانوں کو اتنا اطمینان ضرور ہو گیا کہ ان کی طرف سے حق وانصاف کی بات نہایت مناسب اور احسن طریقہ سے ارباب اختیار تک پہنچا دی گئی ہے۔سر ظفر اللہ خاں صاحب کو کیس کی تیاری کے لئے بہت کم وقت ملا ہے مگر اپنے خلوص اور قابلیت کے باعث انہوں نے اپنا فرض بڑی خوبی سے ادا کیا۔ہمیں یقین ہے کہ پنجاب کے سارے مسلمان بلالحاظ عقیدہ ان کے اس کام کے معترف اور شکر گزار ہوں گے۔۱۰۴ جب باؤنڈری کمیشن کے فیصلہ کا اعلان ہوا تو ہندو اور سکھ بے حد خوش ہوئے اور مسلمان گھبرا گئے۔مگر قائد اعظم نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ” ہمارے علاقہ کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ہم پر آخری وار باؤنڈری کمیشن کے فیصلہ سے ہوا ہے۔یہ فیصلہ سراسر غیر منصفانہ نا قابل فہم اور بد نیتی پر مبنی ہے۔اس فیصلہ کی حیثیت محض سیاسی ہے، قانونی نہیں۔تاہم چونکہ ہم باؤنڈری کمیشن کے فیصلہ پر کار بند ہونے کا وعدہ کر چکے ہیں اس لئے ایک معزز قوم کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس پر کار بندر ہیں۔گو یہ ہمارے لئے سخت تکلیف دہ ہے۔لیکن اب ہمیں ضبط اور تحمل سے کام لینا چاہئے اور امید کا دامن ہاتھ سے چھوڑ نا نہیں چاہئے“۔۱۰۵