لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 538
538 بہر حال اس فیصلہ کے اعلان کے معاً بعد ہندوؤں اور سکھوں کے حوصلے بلند ہو گئے اور انہوں نے اس ارادے سے ہندوستان جانا شروع کر دیا کہ وہ بہت جلد پاکستان واپس آ کر پاکستان پر قبضہ کر لیں گے اور اپنی جانیں بچانے کے لئے مسلمانوں کے بھی بڑے بڑے قافلے ہندوستان سے پاکستان آنے شروع ہو گئے۔لاہور شہر کی ان ایام میں یہ حالت تھی کہ ایک محلہ سے دوسرے محلہ میں جانا مشکل تھا۔بڑی مشکل سے حکومت نے فسادات پر کنٹرول کیا مگر لاہور کے جن علاقوں میں ہندوؤں کی اکثریت تھی۔وہ مسلمانوں کو چیلنج پر چیلنج دے رہے تھے کہ اگر تم نے ہم سے ہمارے علاقے خالی کروالئے تو ہم تمہاری طاقت کا لوہا مان لیں گے۔چنانچہ اندرون شاہ عالمی دروزاہ کے ہندو بڑے زوروں پر تھے انہوں نے بہت سے مظلوم کشمیریوں اور دوسرے مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔یہ حالات دیکھ کر مسلمان بھی آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے اس علاقہ کے ہندوؤں کا ایسا بے جگری سے مقابلہ کیا کہ ہند و اندرون شاہ عالم کا علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔مگر جن علاقوں کے ہند و پر امن رہے انہیں مسلمانوں نے اور حکومت نے بھی تسلی دی اور ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ اگر وہ پُر امن رہے تو ان پر ہر گز کسی قسم کی سختی نہیں کی جائے گی اور انہیں عام شہریوں کے سے حقوق حاصل ہوں گے۔ہماری اپنی جماعت کا یہ حال تھا کہ جب قادیان میں حالات بہت ہی بگڑ گئے اور ہندوؤں اور سکھوں نے حکومت کے ساتھ مل کر قادیان پر چاروں طرف سے حملے شروع کئے تو جماعت کے سرکردہ احباب نے متفقہ طور پر حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں درخواست کی کہ حضور پاکستان تشریف لے جائیں اور وہاں جا کر جماعت کی قیادت سنبھالیں۔مگر حضور نے انکار کیا اور فرمایا کہ امام کا مرکز کو چھوڑ کر باہر جانا مناسب نہیں۔چنانچہ انہیں ایام میں جو چٹھی حضور نے محترم شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت لاہور کی معرفت جماعت احمد یہ پاکستان کے نام بھیجی۔اس کی نقل درج ذیل ہے: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ برادران جماعت احمدیہ ھوالناصر السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ فسادات بڑھ رہے ہیں۔قادیان کے گرد دشمن گھیر ڈال رہا ہے۔آج سنا گیا ہے