لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 536 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 536

536 جائے گا۔۱۵ اگست ۱۹۴۷ء سے ہندوستان اور پاکستان کی دونوں حکومتوں نے علیحدہ علیحدہ کام شروع کر دیا مگر فسادات کی آگ شدت کے ساتھ بھڑکتی رہی۔اور پنجاب کے ہندو مسلمان اپنے اپنے علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔خاکسار راقم الحروف کو وہ زمانہ خوب یاد ہے جب پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا سوال اٹھا تو گورنر پنجاب نے سکھوں کولمبی لمبی کر پانیں اور تلوار میں لے کر پھرنے کی عام اجازت دے دی مگر مسلمان کے لئے گھر میں چاقو رکھنا بھی جرم قرار دے دیا گیا۔چنانچہ جہاں ذرا بھی شک پیدا ہوتا۔مسلمانوں کی تلاشی لی جاتی اور معمولی چاقو اور چھری برآمد ہونے پر بھی انہیں گرفتار کر لیا جاتا۔پھر ریڈ کلف ایوارڈ نے تو ہندوؤں اور سکھوں کو اور بھی جرأت دلا دی اور انہوں نے پاکستان کی سکیم کو ناممکن العمل بنانے کے لئے مسلمانوں کو مشرقی پنجاب اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں تہ تیغ کرنا شروع کر دیا۔باؤنڈری فورس نے بھی امن قائم کرنے کے لئے پوری کوشش نہ کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں نے اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی جانیں بچانے کے لئے پاکستان میں پناہ لینے کا ارادہ کر لیا۔مگر جونہی وہ گھروں سے نکل کر کیمپوں میں داخل ہوتے ہندو اور سکھ ان پر ٹوٹ پڑتے۔قیمتی سامان زیورات وغیرہ چھین لیتے۔عورتوں کی بے حرمتی کرتے اور نو جوان بچیوں کو زبردستی اغوا کر لیتے۔اور جو کچھ بچ رہتا اسے رستہ میں چھین لیا جاتا۔چنانچہ مسلمان جب پاکستان میں پہنچتے تو نو جوان عورتوں اور زیورات وغیرہ قیمتی سامان سے محروم ہو کر نہایت ہی بدحالی میں پہنچتے۔وہ زمانہ بڑا ہی خطرناک تھا۔راقم الحروف نے خوداپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جب دو ریل گاڑیاں لاشوں سے بھری ہوئی پاکستان میں پہنچیں تو مسلمانوں کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور حکومت کے روکتے روکتے انہوں نے بھی بعض ایسے علاقوں میں جہاں حکومت اس زمانہ میں کچھ نہ کر سکتی تھی بعض ہندوؤں اور سکھوں کو نقصان پہنچایا۔بہر حال ایک محتاط اندازے کے مطابق اس زمانہ میں ایک کروڑ انسانوں نے نقل وطن کیا اور ہزارہا مسلمان خواتین ہندوؤں اور سکھوں نے زبردستی اپنے قبضہ میں کر لیں۔پھر جب باؤنڈری کمیشن کا اعلان ہوا تو حضرت امیر المومنین خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ قادیان سے لا ہور تشریف لائے۔اور بعض امور کی وضاحت کے سلسلہ میں مسلمان جوں سے ملے۔کمیشن کے جتنے اجلاس لا ہور اور شملہ میں ہوئے کسی اجلاس میں بھی ریڈ کلف نے شرکت کی ضرورت نہ سبھی مگر حضور رضی اللہ عنہ لاہور ہائیکورٹ