لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 521
521 ناکارہ کی محبت اس نے کس طرح لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دی ہے میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔لاہور کے اور بہت سے احباب نے نہایت اخلاص کا نمونہ دکھایا اور بہت سی خدمات کیں، ۸۵ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب معالج خصوصی حضرت امیر المومنین خلیفہ المسح الثانی نے جماعت لاہور کی خدمات کا ذکر ان الفاظ میں کیا: ’ جماعت احمد یہ لاہور کے اخلاص کی کچھ حد نہیں۔ایک دوسرے سے بڑھ کر خدمت گزاری کے لئے مستعد نظر آتا تھا۔کہیں راتوں کو پہرے کا انتظام ہے کہیں دن کو۔اور کوئی سائیکل سے خدمت کے لئے آمادہ ہے۔مکرم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کیا ہی خوش بخت ہیں جن کے مکان پر حضرت صاحب نے اس قدر لمبا عرصہ قیام فرمایا۔انہوں نے اور ان کے معمر والد صاحب اور والدہ صاحبہ نے حضور کے قیام کے دنوں میں بہت ہی مشقت ، اٹھائی۔ان کے نوکروں نے خدمت کے کام کو انتھک طور پر انجام دیا۔جزاھم اللہ خیرا۔لاہور کے ایک نوجوان عزیزم احسان اللہ صاحب ابن ملک خدا بخش صاحب تو نہایت ہی خوش قسمت ہیں کہ سائیکل لئے ہر وقت حاضر اور حکموں کے منتظر رہے۔یہاں تک کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی آنکھوں میں سما گئے اور کئی بار ان کی خدمت کی تعریف فرمائی۔پھر ایک اور دوست قابل رشک ہیں یعنی حکیم سراج الدین صاحب وہ تو سایہ کی طرح حضرت صاحب کے ہسپتال پہنچنے کے وقت ہسپتال میں پہنچ جاتے تھے اور ہر قسم کی خدمت کے لئے لبیک کہتے تھے۔انہوں نے سیدہ مرحومہ کی چوبیس گھنٹے خدمت انجام دینے والی خادمہ کے دونوں وقت کھانا پہنچانے کا انتظام بھی رکھا۔جزاه الله احسن الجزاء۔قابل رشک خاتون محترمہ اقبال بیگم صاحبہ اور والدہ رشید نے تو وہ خدمت انجام دی کہ آسمان سے ان کی خدمت کی گواہی ملی، ۱۶ قیام لاہور کے دوران علم و عرفان کی بارش خاکسار راقم الحروف ان ایام میں لائل پور میں متعین تھا۔چند ایک مرتبہ حضور کی زیارت اور