لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 522 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 522

522 ملاقات کے لئے لاہور آنے کا موقعہ ملا۔وہ نقشہ اب تک میرے سامنے ہے۔محترم جناب شیخ بشیر احمد صاحب کے مکان ۱۳ ٹمپل روڈ پر حضور کا قیام تھا۔حضور اور حضور کے اہل بیت او پر چوبارہ میں رہتے تھے اور خدام نیچے۔ہر وقت چہل پہل رہتی تھی۔چند ایک خادم ہر وقت موجود رہتے تھے۔بعض خدام جو سرکاری ملازم تھے ان کا یہ معمول تھا کہ ادھر چھٹی ہوئی، گھر میں گئے کھانا کھایا اور سید ھے حضور کی قیامگاہ پر پہنچے اور پھر حضور کی مجالس علم و عرفان میں بھی شامل ہوئے اور مختلف قسم کی خدمات بجالائے۔مجھے خوب یاد ہے مکرمی و محترمی با بو فضل دین ہائیکورٹ والے اور مکرمی و محترمی چوہدری محمد اسد اللہ خاں صاحب بارایٹ لاء حال امیر جماعت لاہور نماز میں حضور کے دائیں بائیں کھڑے ہوتے تھے۔بعض غیر احمدی اور غیر مسلم معززین جن میں کالج کے پروفیسر اور طلباء وطالبات بھی شامل ہیں۔حضور رضی اللہ عنہ کی ملاقات کے لئے آیا کرتے تھے اور اپنے سوالات کے جوابات اور حضور کی عارفانہ باتیں سن کر بہت خوش اور مطمئن ہو کر جاتے تھے۔مصلح موعود ہونے کی اطلاع بذریعہ رو یا ۶۵ جنوری ۱۹۴۴ء کی درمیانی رات بمقام لاہور : اب ہم اس عظیم الشان نشان کا ذکر کرتے ہیں جس کا اعلان حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۲۰ - فروری ۱۸۸۶ء کو بمقام ہوشیار پور شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کی حویلی کے بالا خانہ میں چلہ کشی کے بعد کیا تھا۔واقعہ یوں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کے احیاء کے لئے دعائیں کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے ایک نشان طلب کیا تھا جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہوشیار پور جا کر چلہ کشی کا حکم دیا۔چنانچہ حضور اس حکم کی تعمیل میں ہوشیار پور تشریف لے گئے۔شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کی حویلی یا طویلہ کے بالا خانہ میں چالیس روز اللہ تعالیٰ کے حضور نہایت ہی خشوع خضوع کے ساتھ آہ وزاری کی جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک عظیم الشان فرزند کے تولد کی بشارت دی۔اس فرزند کی صفات خاصہ کا ذکر حضور نے ۲۰۔فروری ۱۸۸۶ء کے سبز اشتہار میں کیا۔یہ اشتہار ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل ہے جو پیشگوئی مصلح موعود کے نام سے مشہور ہے اس پیشگوئی میں یہ بتایا گیا تھا کہ