لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 520 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 520

520 رو تعلق میں کرنل ہیز نے بھی بطیب خاطر امداد دی۔نئے ہسپتال میں کرنل بھر وچہ خود وقت آتے تھے اور خود پٹی کرتے تھے اور حضرت صاحب کو یہ سہولت تھی کہ اوّل تو ہسپتال حضور کی قیام گاہ کے بالکل قریب تھا۔دوسرے اس میں آنے جانے کے اوقات کی ایسی سخت پابندیاں نہیں تھیں جیسی کہ لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں تھیں اور تیسرے یہ کہ اس جگہ کا ماحول قریباً اپنے اختیار میں تھا جہاں اپنے مخصوص مذہبی اور روحانی رنگ بآسانی پیدا کیا جا سکتا تھا۔مگر تقدیر کے نوشتے بہر حال پورے ہونے تھے۔حالت خراب ہوتی گئی۔اور آخر ۵- مارچ ۱۹۴۴ء کو اتوار کے دن اڑھائی بجے سہ پہر کو قریباً ۳۹ سال کی عمر میں ہماری بہن نے داعی اجل کو لبیک کہا اور اپنے آقا و مالک کے حضور پہنچ گئیں۔انا للہ و انا اليه راجعون وكل من علیها فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال والاکرام، ۵۴ حضرت سیدہ مرحومہ کی وفات کے بعد حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے تیمار داری کرنے والوں کے لئے دعا کرتے ہوئے لکھا: "مریم بیگم کی بیماری میں سب سے زیادہ شیر محمد خاں صاحب آسٹریلیا والوں کی بیوی اقبال بیگم نے خدمت کی۔اڑھائی مہینہ اس نیک بخت عورت نے اپنے بچوں کو اور گھر کو بھلا کر رات اور دن اس طرح خدمت کی کہ مجھے وہم ہونے لگ گیا تھا کہ کہیں یہ پاگل نہ ہو جا ئیں۔اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے سارے خاندان پر اپنے فضل کا سایہ رکھے۔”پھر ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب ہیں جن کو ان کی بہت لمبی اور متواتر خدمت کا موقعہ ملا۔شیخ بشیر احمد صاحب نے کئی ماہ تک ہماری مہمان نوازی کی اور دوسرے کاموں میں امداد کی۔میاں احسان اللہ صاحب لاہوری نے دن رات خدمت کی یہاں تک کہ میرے دل سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ ان کا خاتمہ بالخیر کرے۔حکیم سراج دین صاحب بھائی دروازہ والوں نے برابر ان کی ہمرا ہی عورت کا اڑھائی ماہ تک کھانا پہنچایا اور خود بھی اکثر ہسپتال میں آتے رہے۔ڈاکٹر معراج الدین صاحب کو رعشہ کر مرض ہے اور بوڑھے آدمی ہیں۔اس حالت میں کا نپتے اور ہانپتے اور لرزتے ہوئے جب ہسپتال میں آ کر کھڑے ہو جاتے کہ میں نکلوں تو مجھ سے مریضہ کا حال پوچھیں تو کئی دفعہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو دیکھ کر کہ مجھ