لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 495
495 اور یہاں بھی اپنے مطالبات پیش کرتے رہتے ہیں۔پھر انہیں اپنے ہاں مہمان ٹھہراتے ہیں۔ان کے اعزاز میں بڑی بڑی دعوتیں کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ انگریز قوم ہندو قوم کے مطالبات سے اچھی طرح آگاہ ہے لیکن اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کے تعلقات انگریزوں سے نہ ہونے کے برابر ہیں۔لہذا ایسے موقعہ پر اگر ہندوؤں کی پیروی میں مسلمانوں نے بھی اس کمیشن کا بائیکاٹ کیا تو اس کا نقصان یہ پہنچے گا کہ کمیشن کو مسلمانوں کے مطالبات کا قطعا علم نہیں ہوگا اور ہند وقو م کے مطالبات ( جن سے وہ پہلے ہی واقف ہے ) کو ہی ہندوستان کے مطالبات سمجھ لے گا۔پس مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ اس موقعہ کو غنیمت سمجھتے ہوئے سائمن کمیشن کے ساتھ بھر پور تعاون کریں۔حضور نے مسلمانوں تک اپنے ان خیالات کو پہنچانے کے لئے ایک رسالہ ”مسلمانان ہند کے امتحان کا وقت لکھا اور اسے پندرہ ہزار کی تعداد میں اردو اور انگریزی میں چھپوا کر ہندوستان بھر میں تقسیم کروایا۔دو ہزار کی تعداد میں اعلیٰ کا غذ پر یہی مضمون چھپوا کر وائسرائے صوبوں کے گورنروں چیف کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کے علاوہ افسران پولیس اور اعلیٰ عہدیداران میڈیکل ڈیپارٹمنٹ اور انجنیئر نگ ڈیپارٹمنٹ وغیرہ کے نام بھیجا گیا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قائد اعظم مسٹر محمد علی جناح، مولانا ابوالکلام آزاد مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ظفر علی خاں وغیرہ چند ایک لیڈروں کے علاوہ مسلمانوں کی اکثریت نے کمیشن کے ساتھ تعاون کرنا ضروری سمجھا۔اور سر شفیع مرحوم کی قیادت میں اپنی ایک الگ تنظیم قائم کر لی۔چنانچہ کمیشن آیا تو ہندوؤں کے ساتھ مل کر مسلم قوم نے ہڑتال نہیں کی۔۵۸ پنجاب کونسل کے ممبروں نے بھی کمیشن کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے سات ممبروں کی ایک کمیٹی بنائی۔جس میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو بھی شامل کیا گیا۔اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ نے اپنی ۵۔نومبر ۱۹۲۸ء کی اشاعت میں کمیشن کے ساتھ تعاون کرنے والے ممبروں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا: ”ہمارا سیاسی نمائندہ جو سائمن کمیشن کے ساتھ ہے۔ہندوستانی ممبروں کی مختلف النوع شخصیتوں سے بہت ہی متاثر ہوا ہے۔سرشنکرن نائر وجاہت اور علیحدگی پسندی میں سرسکندر حیات خوش گفتار اور اپنی طرف مائل کر لینے والے ہیں۔مسٹر راجہ اچھوت اقوام کے نمائندے ہیں۔مسٹر ارون را برٹس ہوشیار اور چوکس ہیں۔سرذ والفقار علی خاں صاحب