لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 496
496 فاضل ہیں اور دلنشیں طرز میں گفتگو کرنے والے ہیں۔شہادت دینے والوں پر جرح کرنے کے باب میں ایک نمایاں شخصیت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی ہے۔آپ داڑھی رکھے ہوئے ہیں۔آپ کوئی دور از کار بات نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ مطلب کی بات کہتے ہیں اور اس لحاظ سے آپ سر آرتھر فروم سے مشابہ ہیں یعنی آپ کی آواز پر شوکت ہے اور نہایت برجستہ تقریر کرنے والے ہیں۔‘۵۹۰ مسلم لیگ کی مذکورہ بالا دونوں پارٹیاں قریباً سوا سال تک الگ الگ کام کرنے کے بعد ۲۸ فروری ۱۹۳۰ء کو دہلی میں ایک اجلاس کے دوران ایک ہو گئیں۔فالحمد للہ علی ذالک۔حضرت امیر المومنین کی لاہور میں تشریف آوری ۱۲۔جنوری ۱۹۲۹ء کو حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی لا ہور تشریف لائے اور اپنے برادر نسبتی ڈاکٹر خلیفہ تقی الدین صاحب کے ہاں قیام فرمایا۔۱۳۔جنوری کو احمد یہ ہوسٹل میں احمدی اور غیر احمدی کالجوں کے طلباء کے علاوہ دوسرے اصحاب کو بھی شرف ملاقات عطا فرمایا۔۲۰ ۱۴۔جنوری کو حضور نے گورنر پنجاب سے ملاقات کی اور پھر مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ میں تشریف لا کر آیت لایمسه الا المطهرون کی نہایت لطیف تفسیر فرمائی۔۱۵۔جنوری کو حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب امیر جماعت احمد یہ لا ہور نے حضور کے اعزاز میں سٹفل ہوٹل میں چائے کی دعوت دی جس میں سر شیخ عبدالقادر صاحب خلیفہ شجاع الدین صاحب، سید محسن شاہ صاحب مولوی غلام محی الدین صاحب قصوری اور شیخ نیاز علی صاحب وغیرہ سر کردہ اصحاب شامل ہوئے اور کافی دیر تک مسائل حاضرہ پر گفتگو ہوتی رہی۔بعد ازاں حضور چوہدری صاحب محترم کی کوٹھی تشریف لے گئے۔وہاں بھی کئی اصحاب نے ملاقات کی۔۱۶۔جنوری کو سر شیخ عبد القادر صاحب نے حضور کے اعزاز میں اپنی کوٹھی پر دعوت چائے دی اور بہت سے اصحاب کو شرف ملاقات کا موقع ملا۔۱۷۔کو بھی حضور نے محترم چوہدری صاحب کی کوٹھی پر بعض سر کردہ اصحاب کو ملاقات کا موقعہ بخشا اور مسائل حاضرہ پر گفتگو فرماتے رہے۔۱۸۔جنوری کو حضور واپس قادیان تشریف لے گئے اور اس طرح حضور کا یہ ہفتہ لا ہور میں نہایت ہی مصروفیت میں گذرا۔