لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 494 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 494

494 اور اگر کسی نے کھولی بھی تو اسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔مگر مسلم قوم کی ترقی کے دن آچکے تھے اور یہ ایک ایسی تقدیر تھی جسے کوئی ٹال نہیں سکتا تھا اس لئے مسلمان خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے تجارتی رنگ میں بھی بہت ترقی کر گئے اور ہندو قوم کا یہ وہم بالکل جاتا رہا کہ مسلمان تجارت کے اہل نہیں۔مسلمانوں کی ترقی کا یہ سنہری دور تھا۔اگر حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی ہدایات پر وہ عمل جاری رکھتے تو جس منزل پر وہ اب پہنچے ہیں کافی عرصہ قبل اس منزل پر پہنچ چکے ہوتے۔سائمن کمیشن کی آمد پر جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات جس زمانہ میں سے ہم گزر رہے ہیں، یہ وہ زمانہ تھا جبکہ ہندوستان میں کافی سیاسی بیداری پیدا ہو چکی تھی اور ملک بھر کی قابل ذکر سیاسی جماعتیں انگریزوں سے آزادی طلب کر رہی تھیں۔برطانوی پارلیمنٹ نے ملک کے اس جوش کو دیکھ کر ۱۹۲۷ء کے آخر میں حالات کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیشن بھیجا جس کا نام اس کے لیڈر مسٹر سائمن ( جو انگلستان کے ایک مشہور بیرسٹر تھے ) کے نام پر سائمن کمیشن رکھا گیا۔اس کمیشن کے دائرہ عمل میں علاوہ مرکزی اور صوبائی قانون ساز اسمبلیوں اور کونسل آف سٹیٹ کے نمائندوں اور حکومت کے بڑے افسروں سے مشورہ کرنے کے علاوہ یہ بات بھی تھی کہ وہ ملک کی قابل ذکر جماعتوں کے خیالات بھی دریافت کرے اور مختلف شہادتوں کو قلمبر کر کے اور متعلقہ امور پر غور کر کے دو سال تک اپنی تحقیقاتی رپورٹ برٹش پارلیمنٹ میں پیش کرے تا آئندہ دستور سیاسی کی تیاری میں اس سے مدد مل سکے۔آل انڈیا نیشنل کانگرس اور مسلم قوم کے ذہین لیڈروں مسٹر محمد علی صاحب جناح سرعبدالرحیم اور مولانا محمد علی جو ہر وغیرہ نے اس بناء پر اس کمیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا کہ اس میں کسی ہند وستانی ممبر کو شامل نہیں کیا گیا۔حضرت امیر المومنین خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ ہندو لیڈروں کی ہوشیاری اور مسلمانوں کی سادگی کو فوراً بھانپ گئے۔حضور نے مسلمانوں کو بتایا کہ سائمن کمیشن سے عدم تعاون ہندوؤں کی ایک خطر ناک سیاسی چال ہے جس سے مسلمانوں کو خبر دار رہنا چاہیئے اور وہ چال یہ ہے کہ ان لوگوں نے ایک مدت سے انگریزوں کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کر رکھے ہیں اور یہ وقتاً فوقتاً انگلستان جا کر بھی