لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 480 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 480

480 وہ جمہور یہ اسلام کے اندر ایک ایسا نفرت کا جذبہ پیدا کر رہے ہیں جس سے ہند و قدرتاً ناراض ہوں اور یہ سمجھنے لگ پڑیں کہ آنریبل میاں فضل حسین نے سیاسی میدان میں ہندوؤں کو جو ضعف پہنچایا ہے وہی اب مرزا صاحب تجارتی پہلو میں ہندوؤں کو پہنچانا چاہتے ہیں“۔اس تنقید کے ہر فقرہ سے ظاہر ہے کہ وہ تمام تجویز میں جو مسلم قوم کی ترقی کیلئے مفید اور ضروری ہیں ہندو انہیں اپنے مفاد کی خاطر سخت مصر سمجھتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ مسلمان ہمیشہ ہمیش کیلئے ان کے غلام بنے رہیں۔مذہب اور سائنس پر لیکچر ۳۔مارچ ۱۹۲۷ء حضور کی دوسری تقریر علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کی صدارت میں ”مذہب اور سائنس“ کے موضوع پر ۳۔مارچ ۱۹۲۷ء کو حبیبیہ ہال میں ہوئی۔اس تقریر میں حضور نے متعد د مثالوں کے ذریعہ ثابت کیا کہ وہ باتیں جو سائنس نے آج دریافت کی ہیں قرآن کریم اور احادیث کی تعلیمات میں چودہ سو سال قبل بیان کی گئی ہیں۔ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا: ایسی پر از معلومات تقریر بہت عرصہ کے بعد لاہور میں سننے میں آئی ہے اور خاص کر جو قرآن شریف کی آیات سے مرزا صاحب نے استنباط کیا ہے وہ تو نہایت عمدہ ہے۔میں اپنی تقریر کو زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھ سکتا تا مجھے اس تقریر سے جو لذت حاصل ہورہی ہے وہ زائل نہ ہو جائے اس لئے میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں“۔۳۷ فسادات لاہور میں جماعت احمدیہ کی طرف سے مظلوم مسلمانوں کی امداد جن فسادات کا پیچھے ذکر ہو چکا ہے حضرت امیر المومنین خلیفہ امسح الثائی نے خود بنفس نفیس لا ہور میں پہنچ کر ان کو ختم کروانے کی متعدد کوششیں کیں۔بڑے بڑے لیڈروں سے مل کر بھی اور عوام الناس اور متوسط طبقہ کے لوگوں کو سمجھانے کے لئے تقاریر کے ذریعہ بھی۔مگر فسادات کی آگ اندر ہی اندر سلگتی رہی۔حتی کہ مئی ۱۹۲۷ء کے پہلے ہفتہ میں مظلوم اور بے بس مسلمانوں کا نہایت بیدردی سے خون بہایا گیا۔